اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جس سے ہائیکورٹ کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
یہ درخواستیں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحاق خان کی جانب سے دائر کی گئیں۔ ان میں اسلام آباد ہائیکورٹ، چیف جسٹس اور وفاق پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامی اختیارات کو عدالتی اختیارات پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ چیف جسٹس کسی پہلے سے تشکیل شدہ بینچ میں اپنی صوابدید پر تبدیلی نہیں کر سکتے، نہ ہی دستیاب ججز کو روسٹر سے خارج کرنے یا عدالتی فرائض کی انجام دہی سے روکنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
درخواستوں میں مزید کہا گیا ہے کہ بینچوں کی تشکیل اور کیسز کی منتقلی صرف آرٹیکل 202 اور آرٹیکل 192(1) کے تحت بنے قواعد کے مطابق ہو سکتی ہے۔ ججز نے مؤقف اپنایا کہ “ماسٹر آف روسٹر” کا نظریہ سپریم کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے، لہٰذا اس پر عمل درآمد غیر قانونی ہے۔
انہوں نے 3 فروری اور 15 جولائی کے نوٹیفکیشن کے تحت بنائی گئی انتظامی کمیٹیوں اور ان کے اقدامات کو بھی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری کو آئین کے آرٹیکل 192(1) اور 202 کے منافی قرار دیا۔
مزید کہا گیا کہ ہائیکورٹ اپنے خلاف آرٹیکل 199 کے تحت رٹ جاری نہیں کر سکتی اور ڈویژن بینچ کو کسی سنگل بینچ کے عبوری احکامات پر اپیل سننے یا اس کی کارروائی پر کنٹرول حاصل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ججز نے مؤقف اپنایا کہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی آرٹیکل 209 کے تحت کسی جج کو عدالتی فرائض سے روک سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی بطور چیف جسٹس تقرری پر ہائیکورٹ کے اندر پہلے ہی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان کے حلف برداری کی تقریب کا بھی پانچ ججز نے بائیکاٹ کیا تھا۔