ٹرمپ کا ایران سے براہِ راست رابطے کا عندیہ، زیادہ سفر کے باعث پاکستان کا دورہ منسوخ

واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں “جو بھی معاملات چلا رہا ہے” اس سے براہِ راست بات کرنے کے لیے تیار ہیں، اور انہوں نے ایرانی قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں شدید اندرونی اختلافات پائے جاتے ہیں اور مختلف دھڑے قیادت کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ قیادت سنبھالنے سے بھی گریزاں ہیں کیونکہ حالیہ اقدامات کے نتیجے میں “دو سطحوں کی قیادت ختم ہو چکی ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا طویل انتظار یا سفری تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو اسے خود واشنگٹن سے رابطہ کرنا چاہیے۔

پاکستان کے لیے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے مجوزہ دورے کی منسوخی پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ زیادہ سفر اور وقت کے ضیاع کی وجہ سے کیا گیا۔ ان کے مطابق، “وہ ملک کی اعلیٰ قیادت سے نہیں مل رہے تھے اور سفر بہت طویل اور مہنگا تھا۔”

اس کے باوجود ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے اسے “بہترین” قرار دیا اور فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران سے متعلق امن عمل میں پیش رفت دیکھنا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں