اسلام آباد (ایم این این): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے مختصر دورے کے بعد اتوار کو دوبارہ پاکستان پہنچ گئے، جہاں وہ تین ملکی سفارتی دورے کے سلسلے میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق عباس عراقچی نور خان ایئربیس پہنچے اور اپنے مختصر قیام کے دوران پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جس کے بعد وہ ماسکو روانہ ہوں گے۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کی جانب سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، خاص طور پر رواں سال امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں۔
عمان میں قیام کے دوران انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی اور علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ عمانی قیادت نے پائیدار حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ ایران نے خطے میں استحکام کے لیے عمان کے کردار کو سراہا۔
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی اجاگر کیے، جبکہ عباس عراقچی نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو عدم استحکام کا باعث قرار دیتے ہوئے بیرونی مداخلت سے پاک سکیورٹی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
علاوہ ازیں انہوں نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے علاقائی پیش رفت اور سفارتی عمل پر بات چیت کی۔
اس سے قبل اسلام آباد میں عباس عراقچی نے امریکی تجاویز کے جواب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے حوالے کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے
ایرانی وزیر خارجہ کا عمان کے بعد دوبارہ پاکستان کا دورہ، ماسکو روانگی سے قبل اہم ملاقاتیں
خبر (اردو):
اسلام آباد (ایم این این): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے مختصر دورے کے بعد اتوار کو دوبارہ پاکستان پہنچ گئے، جہاں وہ تین ملکی سفارتی دورے کے سلسلے میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق عباس عراقچی نور خان ایئربیس پہنچے اور اپنے مختصر قیام کے دوران پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جس کے بعد وہ ماسکو روانہ ہوں گے۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کی جانب سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، خاص طور پر رواں سال امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں۔
عمان میں قیام کے دوران انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی اور علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ عمانی قیادت نے پائیدار حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ ایران نے خطے میں استحکام کے لیے عمان کے کردار کو سراہا۔
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی اجاگر کیے، جبکہ عباس عراقچی نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو عدم استحکام کا باعث قرار دیتے ہوئے بیرونی مداخلت سے پاک سکیورٹی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
علاوہ ازیں انہوں نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے علاقائی پیش رفت اور سفارتی عمل پر بات چیت کی۔
اس سے قبل اسلام آباد میں عباس عراقچی نے امریکی تجاویز کے جواب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے حوالے کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے کسی بھی معاہدے کے لیے “منصفانہ اور معقول” فریم ورک پر زور دیا اور دباؤ میں مذاکرات کو مسترد کیا، خاص طور پر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے تناظر میں۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر کے اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے، تاہم آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر اختلافات کے باعث پیش رفت تاحال تعطل کا شکار ہے۔ کسی بھی معاہدے کے لیے “منصفانہ اور معقول” فریم ورک پر زور دیا اور دباؤ میں مذاکرات کو مسترد کیا، خاص طور پر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے تناظر میں۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر کے اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے، تاہم آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر اختلافات کے باعث پیش رفت تاحال تعطل کا شکار ہے۔