اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں پٹواریوں کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں صرف 9 پٹواری 45 منظور شدہ آسامیوں پر کام کر رہے ہیں، جو کہ سنگین انتظامی غفلت ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پٹواریوں نے اپنی جگہ آگے منشی رکھے ہوئے ہیں جو معاملات چلا رہے ہیں، جو کہ قانون اور ضابطے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس کیانی نے واضح کیا کہ: “یہ اسلام آباد کی مقامی پوسٹیں ہیں، نہ فیڈرل ہیں نہ کسی صوبے کی۔ ان پر باہر کے صوبوں سے یا سیاسی سفارش پر تقرریاں کسی صورت جائز نہیں۔”
انہوں نے پورے نظام کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا: “چیف کمشنر کو فائدہ ہے کہ 9 افراد سے پورے اسلام آباد کا کام لیا جا رہا ہے۔ پورا نظام اس وقت بے ایمانی پر چل رہا ہے۔”
البتہ عدالت نے مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا: “اگر مقدمہ درج کرنے کا حکم دوں تو یہ 9 لوگ بھی جیل چلے جائیں گے۔”
عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دیں، ورنہ سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔