مانسہرہ-ناران-جلکھڈ-چلاس موٹروے منصوبہ، سیاحتی راہداری پر پیش رفت

اسلام آباد (وے آوٹ نیوز)وفاقی بجٹ 2025:26 میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت مانسہرہ-ناران-جلکھڈ-چلاس موٹروے کے منصوبے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی شامل کی گئی ہے۔ یہ نیا مجوزہ موٹروے منصوبہ 240 کلومیٹر طویل ہوگا اور اس میں بابوسر ٹنل بھی شامل ہوگی۔جو سیاحت اور ترقی کا نیا باب ثابت ہو گا۔ یہ منصوبہ شمالی علاقوں کے دلکش مقامات کو سال بھر قابل رسائی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جس سے موسم گرما اور سردیوں دونوں میں سیاحوں کی آمد و رفت ممکن ہوگی۔
سفر کا وقت صرف 2.5 گھنٹے رہ جائے گا ۔اس نئی موٹروے کی بدولت مانسہرہ سے چلاس کا سفر جو پہلے 7 گھنٹے میں طے ہوتا تھا، اب صرف 2 گھنٹے 30 منٹ میں ممکن ہو سکے گا۔
مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے منصوبے سے نہ صرف علاقائی رابطے مضبوط ہوں گے بلکہ مقامی معیشت، روزگار کے مواقع، اور سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
بابوسر ٹنل ہر موسم کی رسائی
اس منصوبے کا مرکزی جزو بابوسر ٹنل ہے، جو راستے کو سال بھر قابل رسائی بنانے میں مدد دے گی، خاص طور پر برفباری کے موسم میں۔
یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر سیاحت کے نئے در وا کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں