قازقستان میں پاکستانی سرمایہ کاری کی جانب اہم پیش رفت، تجارتی تعاون کی نئی راہیں ہموار

قازقستان)(وے آوٹ نیوز) قازقستان کے شہر اُسٹ کامینیگورسک میں ایرتس سوشل اینڈ انٹرپرینیوریل کارپوریشن JSCکے انتظامی عہدیداران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کاروباری وفد کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں گوشت اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وفد نے خاص طور پر مشرقی قازقستان میں گوشت کی افزائش کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کے صدر، سرفراز حسین نے کہا کہ اُسٹ کامینیگورسک اور اس کا علاقہ برآمدات کے لیے ہائی ٹیک پیداواری مراکز کے قیام کے لیے سازگار ماحول رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا یہ شہر ایک کامیاب کاروبار کے قیام کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہم ایرتس کارپوریشن کے ساتھ مل کر گوشت کی پیداوار کے شعبے میں کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں گوشت کے منفرد ذائقے کی وجہ خاص فیڈنگ ٹیکنالوجی ہے، جسے ہم قازقستان میں برآمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم ایک برآمدی پلانٹ کے قیام میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، جس کی ابتدائی مانگ 12 ہزار ٹن سالانہ ہے، جو مستقبل میں مزید بڑھائی جائے گی۔ پاکستانی وفد نے ہلکی صنعت (لائٹ انڈسٹری) میں بھی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی، جس میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، ورک ویئر اور صنعتی شعبوں کے لیے اجزاء کی پیداوار شامل ہے۔ سرمایہ کاروں نے کلسٹر ماڈل کی تجویز دی، جس میں گوشت کی پراسیسنگ، جانوروں کی کھالوں کی پروسیسنگ، اور پھر کپڑوں و کھیلوں کے سامان کی تیاری شامل ہوگی۔
اس ماڈل کے تحت عالمی معیار کے چمڑے کے فٹبالز بھی تیار کیے جائیں گے۔
نئی صنعتوں میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو جبکہ 20 فیصد غیر ملکی ماہرین کو دی جائیں گی، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
مذاکرات کے دوران پیداواری عمل کو مقامی بنانے (Localization) پر خصوصی توجہ دی گئی۔ طے پایا کہ تمام تیار شدہ مصنوعات پر “Made in KZ” کا لیبل لگایا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ قازقستانی مارکیٹ میں بھی مصنوعات کی مؤثر فروخت کی راہ ہموار ہو گی۔
اس موقع پر ایس پی کے ایرتس کے چیئرمین ایبل دونبایف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کارپوریشن ان تمام منصوبوں کی مکمل معاونت کرے گی جو خطے کی معیشت کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک علاقائی ترقیاتی ادارے کی حیثیت سے سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ ہم کاروباری مقامات، صنعتی زونز، بنیادی ڈھانچے، مشاورتی معاونت، اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم سے کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آیا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اپنے ممالک سے فنڈز بھیجنے پر کوئی قانونی رکاوٹیں تو نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرتس کارپوریشن ISO 37001 اسٹینڈرڈ کے تحت کام کر رہی ہے اور اس کے پاس بین الاقوامی شفافیت کا سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے، جو اس کے کھلے اور شفاف نظام کی علامت ہے۔
ایبل دونبایف نے سیرے بریانسک شہر میں ایک چھوٹے صنعتی زون کو ٹیکسٹائل پیداواری یونٹ کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ وہاں موجود بنیادی ڈھانچہ، پیداواری سہولیات اور مشینری کو بروئے کار لا کر ایک کامیاب منصوبے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
گوشت کی پیداوار کے حوالے سے، کارپوریشن نے اس بات پر زور دیا کہ فیڈلاٹس اور جدید ذبح خانوں کے قیام کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبہ بندی اور انتظام ضروری ہے تاکہ صحت اور برآمدی ضوابط پر پورا اترا جا سکے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان شعبوں میں باہمی مفاد کے مواقع موجود ہیں جو مستقل تعاون کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
پاکستانی وفد نے سیرے بریانسک میں صنعتی زون کا دورہ کرنے کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے پر پیش رفت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔