اقوام متحدہ میں پاکستان کی اہمیت کا اعتراف، بھارت کو آگ لگ گئی.

نیویارک(وے آوٹ نیوز)پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے انسدادِ دہشت گردی گروپ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا. پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1988 طالبان پابندیوں کی کمیٹی کی صدارت سنبھال لی ہے۔ یہ کمیٹی طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ پاکستان کی قیادت میں یہ اقدام افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں چین بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان نے 2025-26 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن کر آٹھویں بار اس اہم ادارے میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو اسلامی ریاست اور القاعدہ پابندیوں کی کمیٹی میں بھی نشست حاصل ہوئی ہے، جو ان تنظیموں سے منسلک افراد اور گروہوں کو دہشت گرد قرار دینے اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کی ذمہ دار ہے. پاکستان کے اس اقدام پر بھارت کے تن بدن میں آگ لگ گئی. بھارتیی حکومت نے پاکستان کو اہم زمہ داری ملنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بھارت کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے نے پاکستان کو “دہشت گردی کا عالمی مرکز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “انتہائی ستم ظریفی” ہے کہ پاکستان خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا علمبردار ظاہر کر رہا ہے۔
پاکستان کے اس نئے کردار سے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بھارتی میڈیا میں بعض صحافیوں نے یہاں تک کہا ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔
پاکستان کی اقوام متحدہ میں یہ نئی ذمہ داری نہ صرف اس کی سفارتی کامیابی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں اس کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں