میڈیا کی آزادی یا صحافی کی معاشی خوشحالی؟

صحافت کو ہمیشہ ایک مقدس پیشہ کہا جاتا ہے—سچ بولنے کا ہنر، طاقتور کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات، اور معاشرے کو آئینہ دکھانے کی ذمہ داری۔ مگر اس خوبصورت تصور کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے: وہ صحافی جو یہ سب کچھ کر رہا ہے، خود کس حال میں جی رہا ہے؟
اکثر بحث ہوتی ہے کہ میڈیا کی آزادی سب سے اہم ہے۔ بلاشبہ، ایک آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر میڈیا پر پابندیاں ہوں، سنسرشپ ہو یا دباؤ ہو، تو سچ کی آواز دب جاتی ہے اور عوام تک حقیقت نہیں پہنچ پاتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف آزادی کافی ہے؟
تصور کریں ایک ایسے صحافی کا جو مہینوں سے تنخواہ کا منتظر ہو، جس کے گھر کے اخراجات پورے نہ ہو رہے ہوں، جسے اپنی ملازمت کے تحفظ کا یقین نہ ہو۔ کیا وہ واقعی مکمل آزادی کے ساتھ سچ لکھ سکتا ہے؟ یا پھر وہ غیر محسوس انداز میں ان قوتوں کے سامنے جھک جائے گا جو اس کی معاشی کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں؟
یہ حقیقت ہے کہ معاشی عدم استحکام صحافت کی آزادی کو خاموشی سے کمزور کر دیتا ہے۔ جب صحافی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو، تو اس کے لیے اصولوں پر قائم رہنا ایک مشکل امتحان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معتبر صحافتی ادارے اپنے کارکنوں کی مالی اور پیشہ ورانہ حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہیں، تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میڈیا کی آزادی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ آزادی وہ بنیاد ہے جس پر صحافت کھڑی ہوتی ہے، جبکہ معاشی خوشحالی وہ ستون ہے جو اس عمارت کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت گر جائے گی، اور اگر ستون نہ ہوں تو بنیاد بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
اصل حل اس توازن میں ہے جہاں صحافی نہ صرف آزاد ہو بلکہ معاشی طور پر بھی خودمختار ہو۔ ایک ایسا نظام جہاں تنخواہیں بروقت ملیں، ملازمت کا تحفظ ہو، اور کسی بھی قسم کے دباؤ سے بچاؤ کے لیے ادارہ جاتی سپورٹ موجود ہو۔
عثمان خان
نائب صدر نیشنل پریس کلب
سابق صدر پی آر اے پاکستان
لیکن یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: اس توازن کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ ملک میں میڈیا آزاد ہے، صحافی آزاد ہیں، اور اظہارِ رائے پر کوئی قدغن نہیں۔ مگر اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے: کیا واقعی ایک ایسا صحافی، جو مہینوں تنخواہ سے محروم ہو، جس کے پاس ملازمت کا تحفظ نہ ہو، وہ آزاد بھی ہے؟
یہاں حکومت کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ میڈیا کو “آزاد” قرار دے دے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کرے جہاں صحافی معاشی طور پر بھی محفوظ ہوں۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں میڈیا انڈسٹری ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے جہاں کئی ادارے تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں، چھانٹیاں عام ہیں، اور کنٹریکٹ سسٹم نے صحافی کو مکمل طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے؟
کیا حکومت نے کبھی سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی؟
کیا کوئی مؤثر پالیسی بنائی گئی جو میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ کرے؟
یا پھر اشتہارات کی بندش اور تقسیم کو بطور دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے؟
یہ ایک کھلا راز ہے کہ سرکاری اشتہارات میڈیا ہاؤسز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب یہی اشتہارات “انعام و سزا” کے اصول پر تقسیم ہوں، تو پھر آزادی ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حکومت اگر واقعی آزاد صحافت چاہتی ہے تو اسے اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔
مزید یہ کہ لیبر قوانین کا اطلاق میڈیا انڈسٹری میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ویج بورڈ ایوارڈز، کنٹریکٹ کے اصول، اور ملازمت کے تحفظ جیسے معاملات صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ حکومت کی خاموشی اس استحصال کو مزید تقویت دیتی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک طرف حکومت آزادیِ صحافت کے دعوے کرتی ہے، اور دوسری طرف وہی نظام ایسے حالات پیدا کرتا ہے جہاں صحافی معاشی دباؤ میں جکڑ کر رہ جاتا ہے۔
آخرکار، سوال “کون زیادہ اہم ہے؟” سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم دونوں کو کیسے مضبوط بناتے ہیں۔ کیونکہ ایک آزاد مگر مجبور صحافی بھی سچ نہیں بول سکتا، اور ایک خوشحال مگر غیر آزاد صحافی بھی سچ نہیں بول سکتا۔
حقیقی صحافت وہی ہے جہاں آزادی اور معاشی استحکام ایک ساتھ چلیں—اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ریاست، ادارے اور معاشرہ سب مل کر صحافی کو نہ صرف آزاد بلکہ مضبوط بھی بنائیں۔موجودہ وزارت اطلاعات کے زمہ داران کی صحافیوں کے ساتھ بے اعتنائی بھی سب کے سامنے ہے۔ جو میڈیا مالکان کے سہولت کار کے طور پر تو اپنا کردار ادا کرتے تو دکھائی دیتے ہیں لیکن وزیر وے لیکر پرنسپل انفارمیشن آفیسر تک غریب میڈیا ورکر کی شنوائی کرنے میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور اگر زمہ داران کے رویئے ایسے ہی رہے تو
ایک “آزاد میڈیا” کا بیانیہ صرف ایک خوبصورت نعرہ ہی رہے گا—جس کے پیچھے ایک مجبور صحافی کی خاموشی چھپی ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں