آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم، عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں

تہران (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاہدہ کرے، بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اگر ایران نے مطالبہ نہ مانا تو “جہنم ٹوٹ پڑے گا”۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی ایران کو اسی نوعیت کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ بغیر کسی دھمکی کے اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر کھول دے۔

یہ بیان بدلتی ہوئی ڈیڈ لائنز کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ 21 مارچ کو ٹرمپ نے ایران کے بجلی کے نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ “مثبت بات چیت” کا ذکر کرتے ہوئے ممکنہ کارروائی مؤخر کر دی تھی۔ بعد ازاں اس مہلت میں کئی بار توسیع کی گئی، جو اب پیر کی رات ختم ہو گی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہری توانائی کے ڈھانچے پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، جس سے انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب عالمی سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق اردوان نے اس تنازع کو “جغرافیائی و تزویراتی تعطل” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔ انہوں نے ترکیہ کے فضائی دفاع کے لیے نیٹو کی حمایت کو اتحاد کی طاقت کا مظہر بھی قرار دیا۔

پاکستان نے بھی سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔

ان گفتگوؤں میں تمام فریقین نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر پیش کیے گئے پانچ نکاتی امن منصوبے کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں استحکام لانا ہے۔

علاوہ ازیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیرالجہتی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں