ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے انکار کی تردید، پاکستان کی کوششوں کو سراہا

تہران (ایم این این): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے کبھی بھی اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت سے انکار نہیں کیا، اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے نتیجے میں مسلط کردہ “غیر قانونی جنگ” کا مستقل اور حتمی خاتمہ ممکن ہو۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ایرانی شہری پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام “پاکستان زندہ باد” کے الفاظ کے ساتھ کیا۔

یہ بیان وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی قیادت میں جاری جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عراقچی کے بیان کو سراہتے ہوئے اسے بروقت وضاحت قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی کہا کہ قیاس آرائیاں کسی کے لیے مفید نہیں، اور درست معلومات کے لیے سرکاری بیانات پر انحصار کیا جانا چاہیے۔

یہ وضاحت ان خبروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران نے باضابطہ طور پر مذاکرات کی پیشکشوں کا جواب نہیں دیا۔ پاکستان اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اور امریکہ، ایران اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بروئے کار لا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 24 مارچ کو امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔

گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا اعادہ کیا گیا۔ 31 مارچ کو پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا۔

ایک ایرانی عہدیدار نے بھی ان خبروں کی تردید کی کہ ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات سے انکار کیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ شرائط ناقابل قبول ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی 15 نکاتی تجویز بہت سخت ہے اور موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت جنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور امریکہ کے ارادوں پر اسے شدید عدم اعتماد ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مذاکرات میں شریک افراد کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے باوجود ایرانی عہدیدار نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں