نیوز ڈیسک (ایم این این) – ایران سے منسوب حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ علاقائی اور عالمی رہنماؤں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے فرانسیسی وزیر برائے مسلح افواج کیتھرین واترین سے گفتگو میں سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عراقی قیادت پر زور دیا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے امریکی سفارتی عملے اور تنصیبات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایرانی حملے کے نتیجے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس سے ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مطابق عراق کے کردستان ریجن میں اس کے قونصل خانے کو بھی ڈرون حملے میں نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات کی درخواست پر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی نگرانی کا طیارہ بھیجے گا اور شہریوں کے تحفظ کے لیے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرے گا۔
سعودی عرب نے ایران کے حملوں میں فوجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر کویت اور متحدہ عرب امارات سے اظہار تعزیت بھی کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر بات کی گئی۔ جنرل عاصم منیر نے بحرین پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
عراق کے مسلح گروپ سرایا اولیاء الدم نے بغداد ایئرپورٹ کے وکٹوریہ فوجی اڈے پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے قبل اربیل میں امریکی فوجی اڈے اور ایک ہوٹل کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں سرحدی علاقے حولہ کے قریب اسرائیلی فوجی پوزیشن پر راکٹ حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل اور امریکہ ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جنوبی قصبے النمیریہ پر اسرائیلی حملے میں سات افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حداتھا کے علاقے پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق تین ڈرونز کو شیبہ آئل فیلڈ کی جانب جاتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
ایران کے دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقے میں ایک شدید حملے کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دن بھر وقفے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ اصفہان میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں جہاں جوہری تنصیبات کی موجودگی کے باعث تشویش بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے ہزاروں اہداف پر حملے کیے ہیں اور توقع ہے کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے۔