ایک اور نوٹیفکیشن،سیم پیج میں سوراخ دکھائی دینے لگے

مشاہد حسین سید کی ایکس پر حالیہ ٹویٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات اقتدار کی بساط کا رخ توپ و تفنگ سے نہیں، بلکہ محض ایک نوٹیفکیشن کے الفاظ سے بدل جاتا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنی تازہ ٹویٹ میں بالکل درست نشان دہی کی ہے کہ حالیہ سیاسی تاریخ میں دو بار سول و عسکری اختلافات صرف نوٹیفکیشن کی بنیاد پر اس نہج تک جا پہنچے کہ منتخب وزرائے اعظم کو ’’سافٹ کُو‘‘ کے ذریعے رخصت ہونا پڑا۔ یہی سوال اب ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے کہ کیا ملک ایک اور سیاسی طوفان کی زد میں ہے؟
پہلا تلخ موڑ 2017 میں سامنے آیا۔مشاہد حسین سید کے مطابق، 29 اپریل 2017 کو مسلم لیگ (ن) حکومت کا ایک اہم نوٹیفکیشن جی ایچ کیو نے مسترد کیا اور پھر اسے واپس لینا پڑا۔ بظاہر یہ ایک انتظامی تنازع تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ اختلاف بڑھتا گیا اور جولائی 2017 میں اُس وقت کے وزیراعظم کی رخصتی کی بنیاد بنا۔ یوں ایک کاغذی حکم نے پوری حکومت کو سیاسی دباؤ کے سامنے بے بس کر دیا۔
دوسرا موڑ: 2021 – 2022 کا بحران ثابت ہوا۔ٹویٹ (ایکس)میں دوسرا حوالہ 6 اکتوبر 2021 کے اس نوٹیفکیشن کا ہے جس کا تعلق آئی ایس آئی چیف کے تبادلے سے تھا۔ پی ٹی آئی حکومت نے اس معاملے کو فوراً قبول نہ کیا، جس کے نتیجے میں تین ہفتے کی کشیدگی پیدا ہوئی۔ بالآخر نوٹیفکیشن منظور ہوا لیکن اس اختلاف نے اپریل 2022 میں وزیراعظم کی رخصتی کی راہ ہموار کر دی۔ مشاہد حسین سید اسے بھی ایک ’’سافٹ کُو‘‘ قرار دیتے ہیں، جو محض ایک کاغذ سے شروع ہوا مگر حکومت کے خاتمے پر ختم ہوا۔
موجودہ صورتحال میں کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟
آج ایک بار پھر ایک اہم سرکاری نوٹیفکیشن منظر سے غائب ہے اور سیاسی فضا میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

(عثمان خان سابق صدر پی آر اے پاکستان)
مشاہد حسین سید بجا طور پر سوال اٹھاتے ہیں:
“کیا ہم ایک بار پھر ‘ایکشن ری پلے’ کے دہانے پر کھڑے ہیں؟”
یہ سوال محض تجزیاتی نہیں—یہ پاکستان کی سیاسی ساخت کی کمزوری، ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی اور فیصلہ سازی کے اُس بحران کی نشاندہی ہے جو کسی بھی وقت پورے نظام کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔
نتیجہ یہ ہی نکلتا ہے کہ
پاکستان کی سیاسی تاریخ اگر ایک سبق دیتی ہے تو وہ یہ ہے کہ اقتدار صرف عوام کے ووٹ، سیاسی نعروں یا پارلیمانی اکثریت سے نہیں چلتا—بلکہ طاقت کے مختلف مراکز میں ہم آہنگی کے بغیر ایک نوٹیفکیشن بھی حکومتوں کی قسمت لکھ سکتا ہے۔ آج کا سوال یہ نہیں کہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا ہمارے ریاستی ادارے تاریخ سے کچھ سیکھیں گے، یا ایک اور وزیراعظم نوٹیفکیشن کی نذر ہو جائے گا؟
یہی وہ خدشہ ہے جسے مشاہد حسین سید کی ٹویٹ نے ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔دوسری جانب
کئی سال سے خاموشی اور سیاسی گوشہ نشینی میں رہنے والے تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف بھی کھل کر بولے اور واقفان حال کہتے ہیں کہ نواز شریف جو عمران خان کے ناقد تھے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ عمران خان نہیں، عمران خان کو لانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ یعنی یہ پیغام ن لیگ کے صدر نواز شریف کا جو اپنی بیٹی ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فریبی رفقاء کو ساتھ بٹھا کر دیا گیا وہ کسی اور کے لئے نہیں بلکہ خالصتاً فوج کی موجودہ قیادت کو دیا گیا۔دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے تمام حکمرانوں کو ہدایت نصیب کرے اور قوم کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے کا جذبہ بیدار کرے، تاہم حالات کو سامنے رکھا جائے تو یہ دھڑکا موجود ہے کہ ملکی معاملات اور اقتدار اب کی بار شہباز شریف کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ شاہراہ دستور سے دیکھیں تو سیم پیج میں چھید صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن شہباز شریف کی مصالحت پسندانہ پالیسی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی طرح کسی جھگڑے میں پڑے بغیر ہی مشکل وقت میں خود سرنڈر کر دیں گے۔کیونکہ آج نہیں تو کل نوٹیفکیشن تو ہو ہی جانا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں