پنجاب اور سندھ کے بیراجوں پر پانی کا دباؤ برقرار

پنجاب اور سندھ کے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہے اور مختلف بیراجوں پر بھاری مقدار میں پانی کی آمد و اخراج ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس سے نشیبی علاقوں اور زرعی زمینوں پر دباؤ برقرار ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 28 ہزار 499 کیوسک رہا۔ بیراج کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 12 لاکھ کیوسک ہے، اس وقت اگرچہ پانی اپنی حد سے کم ہے لیکن مسلسل دباؤ قریبی اضلاع کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 81 ہزار 985 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ بیراج کی گنجائش تقریباً 15 لاکھ کیوسک ہے، اس لیے صورتحال قابو میں ہے لیکن مسلسل پانی کی آمد سندھ کے دریائی کناروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 452 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک رہا۔ بیراج کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 8 لاکھ 75 ہزار کیوسک ہے، تاہم مسلسل دباؤ ٹھٹہ اور بدین جیسے نشیبی اضلاع کے لیے خطرہ بڑھا رہا ہے۔

پنجاب کے تریمو ہیڈ ورکس پر آمد و اخراج 4 لاکھ 93 ہزار 73 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو اس کی 6 لاکھ 45 ہزار کیوسک کی گنجائش کے قریب پہنچ رہا ہے۔ حکام کے مطابق پانی میں مزید اضافے کی صورت میں ہائی فلڈ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

اسی طرح ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 40 ہزار 67 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو اس کی 7 لاکھ کیوسک گنجائش کے اندر ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بیراج فی الحال اپنی گنجائش کے اندر کام کر رہے ہیں لیکن مسلسل بھاری آمد کی وجہ سے زرعی پٹی اور دریا کے کنارے بسنے والے دیہات میں سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔ پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے اور نشیبی آبادیوں کو بچانے کے لیے کڑی نگرانی اور کنٹرولڈ اخراج جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں