اسلام آباد(وے آوٹ نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے پاکستان شطرنج فیڈریشن (PCF) کے سینئر نائب صدر (SVP) کی نشست پر 7 جولائی کو ہونے والے انتخاب کے لیے پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔عدالت نے پی ایس بی اور دیگر فریقین سے 16 جولائی تک جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ ہدایات سینئر نائب صدر کے نامزد امیدوار سلیم اختر کی درخواست پر جاری کی گئیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پی سی ایف کے قواعد کے مطابق انہیں ایس وی پی کی نشست کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عمر خان پی سی ایف کے سیکرٹری منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں کرپشن الزامات کے تحت معطل کر دیے گئے۔
درخواست گزار کے مطابق، معطل سیکرٹری عمر خان نے پی ایس بی کو ایس وی پی کے انتخاب کے انعقاد کے لیے رجوع کیا، حالانکہ پی ایس بی کو کسی معطل سیکرٹری کی درخواست پر کوئی اقدام کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کے باوجود پی ایس بی نے انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔
درخواست میں یہ بھی بتایا گیا کہ عالمی شطرنج فیڈریشن پہلے ہی پی ایس بی کو پی سی ایف کے معاملات میں مداخلت سے باز رہنے کی تنبیہ کر چکی ہے اور متنبہ کیا تھا کہ اگر انتخابات میں مداخلت کی گئی تو پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پی ایس بی کو پی سی ایف کے معاملات میں مداخلت سے روکا جائے اور سینئر نائب صدر کے انتخاب سے متعلق پی ایس بی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔