کراچی (ایم این این): خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جمعے کے روز کراچی پہنچ گئے، جہاں وہ پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کو متحرک کرنے کے لیے سندھ کا تین روزہ دورہ کریں گے۔
سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے ایئرپورٹ پر وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ ان کے دفتر سے جاری ویڈیو میں سعید غنی کو سہیل آفریدی کو سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کرتے دیکھا گیا۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی کراچی پہنچ چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیوز میں ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں کارکنان کو وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ سہیل آفریدی اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوئے تھے، جہاں ان کی پرواز میں تاخیر بھی ہوئی۔
پی ٹی آئی کا خیر مقدمی کیمپ ہٹانے کا الزام
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان محمد علی بزدار نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نرسری کے قریب پارٹی ہیڈ آفس کے باہر وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے لگائے گئے خیمے ہٹا دیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دفتر کو سیل نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل پی ٹی آئی نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ سندھ پولیس نے کراچی میں انصاف سیکریٹریٹ کو سیل کر دیا اور خیر مقدمی کیمپ کو مسمار کر دیا۔ بزدار کے مطابق وزیر اعلیٰ آفریدی کو ایئرپورٹ سے براہ راست پارٹی ہیڈ آفس لے جایا جانا تھا جہاں وہ کارکنان سے خطاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور سندھ حکومت کے حکام سے بات کے بعد یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ خیمے واپس لگا دیے جائیں گے اور پارٹی کو اجتماع کی اجازت دی جائے گی، تاہم سڑکیں بند نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مزار قائد پر جلسہ
اسلام آباد سے روانگی سے قبل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ وہ پارٹی بانی عمران خان کا “پیغام” سندھ لے کر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین روزہ دورے کے دوران مختلف سرگرمیاں طے ہیں اور عوام سے اسٹریٹ موومنٹ کی حمایت کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کو شام ساڑھے چار بجے مزار قائد پر جلسے سے خطاب کریں گے اور دعویٰ کیا کہ یہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔
ابتدا میں سندھ حکام نے ٹریفک دباؤ اور عوامی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے مزار قائد پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا اور متبادل مقام تجویز کرنے کا کہا تھا، تاہم بعد میں سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا کہ جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا خیرمقدم کرے گی اور کسی بھی سیاسی جماعت کی پرامن جدوجہد کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
دورے کا شیڈول
تین روزہ دورے کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی قیادت، وکلا، تاجروں اور صحافیوں سے ملاقاتیں کریں گے اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ اس دورے کا مقصد کراچی اور دیگر شہروں میں پی ٹی آئی کی تحریک کو تیز کرنا اور سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے مطابق وزیر اعلیٰ کی آمد پر کارکنان ان کا استقبال کریں گے اور ریلی کی صورت میں انہیں انصاف ہاؤس لے جایا جائے گا، جہاں مختلف اجلاس منعقد ہوں گے۔
کراچی میں ان کے پروگرام میں ایف پی سی سی آئی میں تاجروں سے ملاقات، کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو، اور ضلع جنوبی، کورنگی اور ملیر میں احتجاجی سرگرمیاں شامل ہیں۔ وہ گرفتار پی ٹی آئی کارکنان سے ملاقات بھی کریں گے۔
10 جنوری کو وزیر اعلیٰ آفریدی حیدرآباد روانہ ہوں گے، جہاں ان کا استقبال جامشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ کریں گے۔ حیدرآباد میں احتجاجی مظاہرے، بار اور پریس کلب سے خطاب، صحافیوں، دانشوروں اور کسانوں سے ملاقاتیں اور انصاف ہاؤس میں اجتماع شیڈول ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق خیبر پختونخوا اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان ملاقات بھی 12 جنوری کو متوقع ہے، جس کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔
گزشتہ ماہ لاہور کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو خط لکھ کر اپنے ساتھ کیے گئے سلوک پر شکایت کی تھی۔