پاکستانی کوششوں پر ایران کا اظہارِ تشکر، جنگ بندی میں غیر یقینی برقرار

تہران (ایم این این) – ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران پاکستان کی ثالثی کوششوں کا شکر گزار ہے، تاہم ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران مناسب حالات میں سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے گا، اور یہ بھی واضح کیا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ اس کی کارروائیاں دفاع کے حق کے تحت ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو متفقہ تجویز پیش کرنے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے جبکہ امریکی فوجی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

اگرچہ پاکستان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متحرک ہے، تاہم دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، کیونکہ تہران کی جانب سے شرکت کی تصدیق نہیں ہوئی اور امریکی وفد کی اسلام آباد آمد میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔

تعطل کی بڑی وجہ ایران کے بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، جو تہران کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، جبکہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت جیسے معاملات بھی تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ دباؤ اور پابندیوں کے ماحول میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں