اسلام آباد (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا اور نہ ہی جنگ کے خاتمے میں کوئی جلدی ہے۔
انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں جنگ بندی سے متعلق چند روزہ توسیع کی خبروں کو “غلط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت امریکی عوام کے لیے بہتر معاہدہ چاہتی ہے، نہ کہ کسی سیاسی دباؤ کے تحت فیصلے۔
ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ایک “ذہین شخص” قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ اگرچہ جنگ بندی کے تحت عسکری کارروائیاں محدود ہیں، تاہم ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور ناکہ بندی جاری ہے جس سے ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی کے دوران 29 جہازوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ میڈیا میں بعض جہازوں کے ناکہ بندی توڑنے کی خبریں مسترد کر دی گئیں۔
وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے دو غیر ملکی جہازوں کی ضبطگی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کیونکہ وہ نہ امریکی تھے نہ اسرائیلی۔ مزید یہ کہ ایران کو امن تجویز پیش کرنے کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ اگر یورپی ممالک ساتھ نہ بھی دیں تو امریکہ اپنی کارروائی جاری رکھے گا، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرنا امریکی مؤقف ہے۔
دوسری جانب ایران کی عدلیہ نے آٹھ خواتین کی سزائے موت روکنے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو “جھوٹی خبر” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔