کراچی، سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری کی منسوخی کے خلاف دائر سات درخواستیں غیر حاضری اور عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیں۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ وکلا اپنی مرضی سے کارروائی کے طریقہ کار پر عدالت کو مجبور نہیں کر سکتے اور عدالت کو ’’یرغمال‘‘ نہیں بنایا جا سکتا۔
دو رکنی بینچ، جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل تھا، نے کہا کہ یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ اپنے طریقہ کار کا تعین کرے، وکلا اس پر حکم نہیں چلا سکتے۔
گزشتہ روز عدالت میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہوا جب بینچ نے جسٹس جہانگیری کی درخواست مسترد کر دی کہ انہیں فریق بنایا جائے۔ بینچ نے واضح کیا کہ سب سے پہلے درخواستوں کی قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ کیا جائے گا، اس کے بعد ہی دیگر معاملات سنے جائیں گے۔ اس فیصلے پر درخواست گزاروں کے وکلا نے اعتراض کیا اور بینچ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ان کے ابتدائی اعتراضات پہلے سنے جائیں۔
عدالت کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں وکلا موجود تھے، جنہوں نے نعرے بازی کی، تالیاں بجائیں اور ایک جج کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ درخواست گزار اور ان کے وکلا اعتراضات نہ سننے پر عدالت سے واک آؤٹ کر گئے۔
تحریری حکم نامے میں درج ہے کہ جب وکیل ابراہیم سیف الدین کو بلایا گیا تو انہوں نے دلائل دینے سے انکار کیا اور کہا کہ پہلے صلاح الدین احمد اور فیصل صدیقی کے اعتراضات پر فیصلہ کیا جائے۔ انکار پر وہ عدالت سے باہر چلے گئے۔ فیصل صدیقی نے بھی اسی بنیاد پر دلائل دینے سے انکار کیا اور واک آؤٹ کر دیا۔ صلاح الدین احمد نے بھی کہا کہ 22 ستمبر کے عدالتی حکم پر پہلے فیصلہ کیا جائے، ورنہ وہ کارروائی آگے نہیں بڑھائیں گے۔
عدالت نے کہا کہ دیگر درخواستوں کے وکلا بھی موجود نہیں تھے اور لگتا ہے کہ وہ بھی عدالت چھوڑ گئے۔ اس بنا پر بینچ نے قرار دیا کہ وکلا کو موقع دیا گیا لیکن انہوں نے ’’جان بوجھ کر‘‘ اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، اس لیے درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔
جسٹس جہانگیری کی بطور فریق شامل ہونے کی درخواست بھی خارج کر دی گئی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ انہوں نے عزت اور صبر سے عدالت سے بات کی، مگر کسی مخصوص درخواست پر دلائل نہیں دیے اور بعد ازاں وہ بھی عدالت چھوڑ گئے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں اور مداخلت کار (جسٹس جہانگیری) نے دانستہ طور پر کیس کی پیروی سے انکار کیا، جو ’’عدالتی عمل کے صریح غلط استعمال‘‘ کے مترادف ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اعلیٰ عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ درخواستوں کو عدم پیروی پر خارج کر دیں۔
تحریری حکم نامے میں وکلا کے رویے پر بھی سخت ریمارکس دیے گئے کہ نعرے بازی اور عدالت کے تقدس کو پامال کرنا ’’انتہائی نامناسب‘‘ اور توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔ تاہم عدالت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی نوٹس جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ رجسٹرار کو ہدایت دی گئی ہے کہ 25 ستمبر کی تمام سی سی ٹی وی اور آڈیو ریکارڈنگ محفوظ کی جائیں۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پچھلے سال ایک خط سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جسے جامعہ کراچی کے کنٹرولر امتحانات سے منسوب کیا گیا۔ بعد ازاں، بار ایسوسی ایشنز، وکلا اور جامعہ کے ایک رکنِ سنڈیکیٹ نے جسٹس جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کو چیلنج کرتے ہوئے درخواستیں دائر کی تھیں۔
ستمبر 2024 میں سندھ ہائیکورٹ نے عارضی حکم جاری کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ جسٹس جہانگیری کو سنے بغیر ان کی ڈگری منسوخ کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ تاہم حال ہی میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس حکم امتناع کو ختم کرنے کی درخواست دائر کی تھی، جس پر گزشتہ روز ڈرامائی کارروائیاں ہوئیں۔