فرانس کی پانچ لاکھ یورو امداد، پاکستان میں بحالی منصوبے کے لیے معاونت

اسلام آباد: غیر سرکاری تنظیم ایکٹڈ نے خیبر پختونخوا کی ضلعی اور صوبائی حکومت کے تعاون سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں بونیر اور سوات میں سات ماہ پر مشتمل منصوبہ ’’کمیونٹی لیڈ ریکوری فار فلڈ ایفیکٹڈ پاپولیشن‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ فرانسیسی حکومت کے مالی تعاون (سی ڈی سی ایس کے ذریعے) سے شروع کیا گیا ہے اور اگست 2025 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ آبادی کی بحالی پر مرکوز ہے۔

منصوبے کے تحت 3 ہزار گھرانوں، یعنی تقریباً 21 ہزار افراد کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی، محفوظ رہائش، روزگار کے مواقع، پانی و صفائی (WASH) خدمات اور تعلیم تک رسائی شامل ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی نشاندہی کردہ ضروریات کے مطابق، منصوبے میں متاثرہ افراد کے لیے قلیل مدتی روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، جن میں ملبہ ہٹانا، آبپاشی نہروں کی مرمت اور چھوٹے انفراسٹرکچر کی بحالی شامل ہے۔ خواتین، بزرگ اور معذور افراد کو خصوصی طور پر سرمائی کٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ سرد موسم میں ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے پانی کی اسکیموں، پمپنگ اسٹیشنز اور گھریلو لیٹرینز کی بحالی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حفظان صحت سے متعلق آگاہی، ڈگنٹی کٹس کی تقسیم اور فومیگیشن مہمات بھی چلائی جائیں گی۔ مقامی سطح پر واش مینجمنٹ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ منصوبے کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

بچوں کی تعلیم کے تحفظ کے لیے عارضی لرننگ سنٹرز قائم ہوں گے، اساتذہ کو ہنگامی حالات میں تعلیم دینے کی تربیت دی جائے گی اور طلبا کو تعلیمی سامان فراہم کیا جائے گا۔ مزید برآں، بچوں، خواتین اور کمزور طبقوں کے لیے نفسیاتی معاونت کے سیشنز منعقد کیے جائیں گے تاکہ وہ صدمات سے نکل کر بحالی کے عمل میں شامل ہو سکیں۔

ایکٹڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سرفراز لالدین نے کہا کہ یہ منصوبہ زندگی بچانے والی سہولیات کی بحالی اور بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ فرانس کے سفیر نکولاس گالی نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ’’کلائمٹ چینج ہم سب کو متاثر کرتا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے اجتماعی عالمی اقدام ناگزیر ہے۔‘‘

ایکٹڈ 1993 سے پاکستان میں سرگرم ہے اور اب تک 219 منصوبوں کے ذریعے 2 کروڑ افراد تک پہنچ چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں