پینٹاگون نے میڈیا پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دیں

پینٹاگون نے امریکی فوجی سرگرمیوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے سخت نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق اب رپورٹرز کو حلف نامے پر دستخط کرنا ہوں گے کہ وہ بغیر باضابطہ منظوری کے کوئی بھی خبر شائع نہیں کریں گے، بصورت دیگر ان کے میڈیا کارڈ منسوخ کر دیے جائیں گے۔

ایک تفصیلی میمو میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پینٹاگون شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، لیکن کوئی بھی معلومات، خواہ غیر خفیہ ہی کیوں نہ ہوں، صرف اس وقت شائع کی جا سکتی ہیں جب انہیں مجاز افسر باضابطہ طور پر جاری کرے۔ اس طرح نامعلوم ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی اشاعت پر بھی مؤثر طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت صحافیوں کی پینٹاگون کے اندر آزادانہ نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہے۔ اب رپورٹرز کو بغیر سرکاری عملے کے ہمراہ عمارت کے اندر گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا: ’’پریس پینٹاگون کو نہیں چلاتا، عوام چلاتے ہیں۔ بیج پہنیں، قواعد پر عمل کریں یا گھر جائیں۔‘‘

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہیگستھ پر یمن میں امریکی فضائی حملوں کی تفصیلات ایک نجی چیٹ گروپ میں لیک کرنے پر شدید تنقید کی گئی تھی، جس میں ایک صحافی بھی شامل تھا۔

امریکی میڈیا اداروں اور صحافتی انجمنوں نے ان اقدامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے ترجمان نے کہا کہ یہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والی فوجی سرگرمیوں تک عوامی رسائی کم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر مائیک بالسامو نے کہا کہ اگر فوجی خبروں کو پہلے حکومت سے منظور کرانا پڑے تو عوام کو آزادانہ رپورٹنگ نہیں بلکہ صرف وہی دکھایا جائے گا جو حکام دکھانا چاہتے ہیں۔

یہ سب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ میڈیا مخالف بیانات کے بعد ہوا ہے۔ ایک دن قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ منفی خبریں ’’غیر قانونی‘‘ ہیں اور دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت پر 97 فیصد میڈیا کوریج مخالفانہ ہے۔ انہوں نے ایف سی سی کمشنر برینڈن کار کا دفاع بھی کیا، جنہوں نے کامیڈین جمی کیمل کے بیانات نشر کرنے والے براڈکاسٹرز کو سزاؤں کی دھمکی دی تھی۔

اگرچہ ٹرمپ نے کار کو ’’محب وطن‘‘ قرار دیا، لیکن ان کے قریبی اتحادی سینیٹر ٹیڈ کروز نے اس پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت کو یہ طے کرنے کا حق دینا کہ کون سی تقریر درست ہے یا نہیں، خطرناک رجحان ہے۔

اسی دوران ٹرمپ کی میڈیا مخالف مہم کو بڑا دھچکا لگا جب ایک وفاقی جج نے ان کا 15 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ نیو یارک ٹائمز کے خلاف خارج کر دیا اور سخت ریمارکس دیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں