پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کا مسترد، اسرائیلی اقدامات کی مذمت

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان نے سات دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ مل کر بیت المقدس اور اس کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔

مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی، خصوصاً مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف میں آبادکاروں اور حکومتی شخصیات کے پولیس کی نگرانی میں داخل ہونے اور احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیزی ہیں، جبکہ پورا مسجد اقصیٰ کمپلیکس مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کا انتظام اردن کے وقف حکام کے پاس ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کے پھیلاؤ، 30 سے زائد نئی بستیوں کی منظوری اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں اور الحاق یا فلسطینیوں کی بے دخلی کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے، خلاف ورزیوں کو روکے اور دو ریاستی حل کے تحت جامع امن کی حمایت کرے، جس کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست 1967 کی سرحدوں کے اندر اور مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنایا جائے۔

یہ بیان حالیہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں اسرائیلی آبادکار بھاری سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور احاطے میں مذہبی رسومات ادا کرنے اور پرچم لہرانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں