اسلام آباد کی یونیورسٹیوں اور کالجز کے قریب 22 منشیات کے مقدمات درج

اسلام آباد – اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں کے گردونواح میں منشیات کی سرگرمیاں تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہیں۔

ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق یکم جنوری تا 31 اگست 2025 کے دوران 1314 مقدمات درج ہوئے، 1408 ملزمان گرفتار کیے گئے اور پولیس نے 261 کلو چرس، 484 کلو ہیروئن، ساڑھے چھ کلو افیون، 94 کلو آئس، معمولی مقدار میں کوکین اور 8177 بوتل شراب برآمد کی۔

ساتھ ہی پیش کی گئی ایک فہرست میں بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں کے قریب مجموعی طور پر 22 ایف آئی آر درج ہوئیں۔ ان میں شامل اداروں میں نمل یونیورسٹی، اردو یونیورسٹی، پریسٹن یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، فیڈرل اردو یونیورسٹی، ماڈل کالجز (بلو ایریا، جی-7/1، جی-7 مرکز، تھرڈ ایونیو، ایف-11 مرکز، ایچ-8/1)، پاک ترک سکول اور دیگر شامل ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی اور اس کے گردونواح میں سب سے زیادہ آٹھ مقدمات درج ہوئے، جبکہ مختلف ماڈل کالجز کے قریب بھی کئی کیسز سامنے آئے۔ ان مقدمات میں زیادہ تر چرس، ہیروئن اور آئس کی برآمدگی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ کو نشانہ بنا کر منشیات فروشی کی جا رہی تھی۔

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ تعلیمی اداروں کے قرب و جوار میں منشیات کا پھیلاؤ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ عدالت نے تمام ایف آئی آرز اور مزید تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کہا کہ “نشہ سے پاک پاکستان” مہم کے تحت اسلام آباد کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں