اسلام آباد:
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ایک ایسی صورتحال دیکھنے میں آئی جس نے ایوان کو لمحوں میں سنجیدہ بحث سے نکال کر مزاح کا مرکز بنا دیا۔ایوان میں پانچ ہزار کے نوٹوں کی گمشدگی پر دلچسپ گفتگو ہوئی… اور سپیکر نے ایسا چٹکلہ لگایا کہ ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت غیر معمولی ماحول بنا جب پانچ ہزار روپے کے نوٹ سپیکر ایاز صادق کے ہاتھ لگ گئے۔سپیکر نے نوٹ لہرا کر ایوان کو بتایا کہ یہ پیسے ایوان میں گرے ہوئے ملے ہیں،جس کے ہیں… وہ ہاتھ کھڑا کرے!
سپیکر کے یہ کہتے ہی ایوان میں اچانک ’اصل مالک‘ بڑھ گئے…
متعدد ارکان فوراً ہاتھ کھڑے کر بیٹھے۔ایوان میں قہقہے گونج اٹھے
اور ماحول مکمل طور پر مزاحیہ ہو گیا۔سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ”یہ تو 12 ارکان نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں…
اصل مالک کون ہے؟”ایوان ایک بار پھر ہنسنے لگا۔
سپیکر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن کے آنے سے پہلےکسی رکن کے پیسے زمین سے ملے۔
مزید کہا “ہم پیسے اصل مالک تک پہنچائیں گے۔
نوٹوں کی گمشدگی کی یہ ‘تحقیقات’ ایوان کی روایتی سنجیدگی کو
چند لمحوں کے لیے کاروباری مرکز میں بدل گئیں۔
اجلاس ختم ہونے کے بعد سپیکر ایاز صادق نے جاتے جاتے پیسوں کے مالک کا نام بھی بتا دیا۔
سپیکر نے اعلان کیا کہ پیسوں کے بارے میں کسی نے کچھ نہیں بتایا…لیکن ویسے… یہ رقم اقبال آفریدی کی ہے!ایوان ایک بار پھر قہقہوں سے گونج اٹھا۔
سپیکر نے ہدایت جاری کی کہ رقم اصل مالک یعنی اقبال آفریدی کے حوالے کر دی جائے۔یوں ایوان میں پانچ ہزار کے نوٹ چند لمحوں کے لیے ’سیاسی نہیں بلکہ معاشی بحث‘ کا محور بنے رہے…اور اجلاس کو ہلکے پھلکے انداز میں رنگین بنا گئے۔