اسلام آباد: سپریم کورٹ (ایس سی) نے قرار دیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف بدعنوانی یا بدسلوکی کے الزامات صرف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) ہی دیکھ سکتی ہے۔ بدھ کو جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں یہ مشاہدہ کیا گیا۔
یہ فیصلہ اُس مقدمے میں سامنے آیا جو ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق تھا۔ رواں سال جنوری میں تین ججوں نے اُن پر یہ کارروائی اس بنا پر شروع کی تھی کہ انہوں نے ایک اہم کیس کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا تھا۔ اس کیس میں یہ سوال زیر بحث تھا کہ کیا سپریم کورٹ کی ریگولر بنچز آرٹیکل 191A (26ویں ترمیم کے بعد بنایا گیا) کی آئینی حیثیت پر فیصلہ کرسکتی ہیں یا نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 199(5) کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کو اُن کے عدالتی و انتظامی کاموں پر آئینی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ استثنیٰ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ہے، جو آئین کے آرٹیکل 2A کی روح ہے۔ اسی لیے ایک ہی عدالت کا جج اپنے ساتھی جج کے خلاف کوئی حکم یا کارروائی نہیں کرسکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر ایک جج دوسرے جج کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کرسکتا تو پھر آرٹیکل 204(2) کے تحت اسے سزا دینے کا اختیار بھی نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ استثنیٰ مکمل نہیں ہے۔ اگر کسی جج کے خلاف بدسلوکی یا مس کنڈکٹ کا معاملہ ہو تو اس کی سماعت صرف آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل ہی کرسکتی ہے۔
عدالت نے زور دیا کہ آرٹیکل 209(7) کے مطابق کوئی اور ادارہ یا فورم اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا، اور یہ آئین کی ایک بنیادی ضمانت ہے۔