اسلام آباد – پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے روس نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے، مگر کیف حکومت اور اس کے مغربی سرپرست اس عمل کو بار بار نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن کی کوششوں سے رواں برس روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات بحال ہوئے اور قیدیوں کے تبادلے سمیت چند عملی اقدامات بھی سامنے آئے، تاہم کیف نے بارہا جنگ بندی کی پیشکشوں کو نظرانداز کیا۔
روسی سفیر نے واضح کیا کہ یوکرین اور یورپی ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کا مقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ مغربی امداد کے ذریعے اپنی فوج کو دوبارہ منظم اور مسلح کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 کے منسک معاہدے بھی دراصل کیف کو وقت دینے کے لیے استعمال ہوئے تاکہ وہ دوبارہ کارروائی کرسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس امن کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس مذاکرات چاہتا ہے، جبکہ یوکرین کے صدر زیلینسکی اس عمل کو ذاتی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ روس کا مؤقف ہے کہ پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب نیو نازی پالیسیوں کا خاتمہ، روسی زبان بولنے والوں پر مظالم کا انسداد اور نیٹو کی مشرقی توسیع کو روکا جائے۔
خوریف نے بتایا کہ روس اور یوکرین نے اب تک ایک ہزار سے زائد قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے، ہزاروں لاشیں واپس کی گئی ہیں اور جنگ بندی کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ تاہم کیف حکومت دہشت گردانہ حملوں اور روس مخالف قوانین کے ذریعے امن عمل کو سبوتاژ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی کو سراہتا ہے اور امن کے قیام میں پاکستان کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔