اسلام آباد (ایم این این): ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف نے کہا ہے کہ ایران دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا اور عندیہ دیا ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ملک نئی عسکری صلاحیتوں کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ محاصرہ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ذریعے مذاکرات کو “ہتھیار ڈالنے” کی شکل دینا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے غیر یقینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو جنگ بندی میں توسیع کا امکان کم ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفونک گفتگو میں امریکا کے “غیر قانونی اقدامات” اور متضاد بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل سفارتکاری کے دعوؤں کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے صورتحال کا بغور جائزہ لے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیانات میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، یہ پابندی برقرار رہے گی، جس سے ایران کو روزانہ بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان کے دورے کا امکان ہے، جبکہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم حالیہ کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی کارگو جہاز کی امریکی تحویل میں لیے جانے کے بعد، صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ایران نے جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد بھی جاری کی ہے، جس کے مطابق اب تک کم از کم 3,375 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جو فوری سفارتی حل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔