اسلام آباد مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے سے قبل محسن نقوی کی امریکی اور ایرانی سفیروں سے ملاقاتیں

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کے روز امریکی اور ایرانی سفارتی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے انتظامات اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محسن نقوی نے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقاتوں میں یقین دہانی کرائی کہ غیر ملکی وفود کے لیے فول پروف سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کے انعقاد کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے تاحال شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع ہی مؤثر حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے پرامن حل کا حامی ہے، جو خطے میں پائیدار امن و استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

ملاقاتوں میں چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور ڈپٹی کمشنر عرفان میمن بھی موجود تھے۔

ادھر دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ریڈ زون اور اس سے ملحقہ علاقوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے پر بھی جزوی بندش کا امکان ہے۔ بھاری ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور شہریوں کے لیے متبادل راستے مختص کیے گئے ہیں۔

مزید برآں، سیکیورٹی اقدامات کے تحت ایم ٹو، ایم ون اور ایم تھری موٹر ویز کو عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے عارضی طور پر بند کیا گیا ہے، تاہم نجی گاڑیوں کو آمدورفت کی اجازت ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوا تھا، تاہم سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں