کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ حکومت نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں، جو ماضی میں فراہم کی گئی مالی معاونت کا حصہ تھے۔
اس سے قبل ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ابو ظہبی نے 3.5 ارب ڈالر کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جو 2019 میں پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے دیے گئے تھے۔ اس رقم میں سے 50 کروڑ ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے جبکہ باقی رقم 23 اپریل تک ادا کیے جانے کی توقع ہے۔ مجموعی طور پر 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تاہم سعودی عرب نے پاکستان کی مالی معاونت جاری رکھتے ہوئے مزید 3 ارب ڈالر کے ذخائر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور موجودہ 5 ارب ڈالر کی سہولت میں مزید تین سال کی توسیع بھی کر دی ہے۔ اس کے بعد اسٹیٹ بینک نے 2 ارب ڈالر موصول ہونے کی تصدیق کی۔
10 اپریل تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 20.52 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ذخائر کو مستحکم رکھنے اور ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے یورو بانڈز، اسلامی سکوک اور کمرشل قرضوں سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے اور موجودہ ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جو معاشی استحکام کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود پاکستان نے ابھی تک 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں کسی تبدیلی کی درخواست نہیں کی، تاہم ضرورت پڑنے پر یہ آپشن موجود ہے۔
دوسری جانب حکومت نے حال ہی میں 50 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ جاری کر کے عالمی مارکیٹ سے فنڈز حاصل کیے، جو گزشتہ چار برسوں میں پہلا اجرا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے پاکستان نے 1.43 ارب ڈالر کا بیرونی قرض بھی واپس کیا، جس میں 8 اپریل کو میچور ہونے والا 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ شامل ہے۔