تہران (ایم این این): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز جنگ بندی کے معاہدے کے بعد عالمی تجارت کے لیے کھول دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باقی عرصے کے دوران تمام تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا حوالہ دے رہے تھے یا ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا، جو 8 اپریل سے شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں کو ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی مقرر کردہ گزرگاہ استعمال کرنا ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا، تاہم واضح کیا کہ ایران جانے والے جہازوں پر امریکی بحری پابندیاں برقرار رہیں گی جب تک مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل لبنان میں مزید بمباری نہیں کرے گا اور امریکا نے اسے روک دیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران سے جوہری مواد حاصل کرے گا اور اس کے بدلے کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے امریکا کی مدد سے سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں یا ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی تعریف کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے آئندہ کبھی آبنائے ہرمز بند نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
28 فروری سے جاری امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہوا۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے کھلنے کے اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد کمی آئی، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو عالمی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔