یورپ کے بڑے ایئرپورٹس پر سائبر حملے کے باعث فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا، تاہم پاکستان کی ایئرپورٹ اتھارٹیز نے واضح کیا ہے کہ ملک کے تمام ایئرپورٹس محفوظ ہیں اور معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن ہیتھرو، برسلز اور برلن ایئرپورٹس پر الیکٹرانک چیک اِن اور بیگیج ڈراپ سسٹم ناکارہ ہوگئے جس کے بعد مسافروں کو لمبی قطاروں اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی فلائٹس منسوخ بھی کی گئیں۔
سائبر حملہ کولنز ایئروسپیس کے سسٹم پر ہوا جو دنیا بھر میں مختلف ایئرلائنز کو چیک اِن اور بورڈنگ سہولت فراہم کرتا ہے۔ کمپنی نے اعتراف کیا کہ یہ “سائبر سے متعلق خلل” ہے اور کہا کہ مسئلے کو جلد حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
برسلز ایئرپورٹ نے کہا کہ واقعے کا شیڈول پر بڑا اثر پڑا ہے جبکہ برلن ایئرپورٹ نے مسافروں کو طویل انتظار سے آگاہ کیا۔ تاہم فرینکفرٹ اور زیورخ ایئرپورٹس متاثر نہیں ہوئے۔ یورپ کی بڑی ایئرلائن ایزی جیٹ نے اپنے آپریشنز کے معمول پر ہونے کی تصدیق کی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ “پاکستان کے تمام ایئرپورٹس پر امیگریشن، ایئرلائنز، گراؤنڈ ہینڈلنگ اور ریزا سسٹمز درست کام کر رہے ہیں اور کسی قسم کی سائبر تھریٹ یا سافٹ ویئر خرابی کی اطلاع نہیں ملی۔”
یہ حملہ عالمی فضائی انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے جہاں ڈیجیٹل سسٹمز پر انحصار کسی بھی خرابی کی صورت میں بڑے پیمانے پر مسائل پیدا کرسکتا ہے۔