اسلام آباد: ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) میں درخواست دائر کی ہے جس میں چیف جسٹس آئی ایچ سی جسٹس سرفراز ڈوگر اور ان کے درمیان کمرہ عدالت نمبر 1 میں ہونے والے تلخ کلامی کے معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
اپنی تحریری درخواست میں، جو رجسٹرار آئی ایچ سی کے پاس جمع کرائی گئی، ایمان مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ 11 ستمبر کو چیف جسٹس کی عدالت میں ایک ’’افسوسناک واقعہ‘‘ پیش آیا۔ ان کے مطابق حقیقت واضح کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا محفوظ کیا جانا ناگزیر ہے تاکہ عدالت میں پیش آنے والے معاملے کی اصل صورت سامنے آ سکے۔
انہوں نے استدعا کی کہ 11 ستمبر کو صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کی کمرہ عدالت نمبر 1 کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے اور اس کی ایک کاپی بھی انہیں فراہم کی جائے۔ ایمان مزاری نے اپنی درخواست کے ساتھ ایک یو ایس بی بھی جمع کرائی ہے تاکہ اس میں متعلقہ فوٹیج منتقل کی جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بار اور بنچ کے درمیان عدالتی ماحول اور ججوں کے رویے پر تنازع شدت اختیار کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس پر ایمان مزاری نے سخت اعتراض کیا جس کے نتیجے میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی عدالتی تنازعات کے حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواستیں سامنے آتی رہی ہیں کیونکہ ویڈیو ریکارڈ اکثر فریقین کے مؤقف کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس معاملے سے عدالتی شفافیت اور جوابدہی پر ایک نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔