پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم نے اقوام متحدہ کی اسپیشل رپوٹر برائے تشدد اور غیر انسانی سلوک، ڈاکٹر ایلس جے ایڈورڈز سے رجوع کیا ہے تاکہ پاکستانی حکومت پر ان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ ان پر 9 مئی 2023 کے مظاہروں سے متعلق انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی مسلسل ان اور سابق خاتونِ اول کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں پارٹی نے بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی ہے۔
گزشتہ ماہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ 72 سالہ عمران خان کا ماہانہ طبی معائنہ شوکت خانم اسپتال میں کرایا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کے مطابق، عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان جبکہ بشریٰ بی بی کی بہن نے اقوام متحدہ میں ہنگامی اپیلیں جمع کرائی ہیں۔ بین الاقوامی لاء فرم پرسیئس اسٹریٹیجیز نے بیان میں کہا کہ ان اپیلوں میں فوری تحقیقات اور مبینہ تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹینشن نے پہلے ہی عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر قرار دیا تھا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ نئی اپیل میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں چھوٹے اور غیر صحت مند سیل میں رکھا گیا ہے جہاں نہ روشنی ہے نہ مناسب سہولت، جبکہ کھانے پینے کی چیزیں بھی ناقص فراہم کی جاتی ہیں۔
بشریٰ بی بی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں 2024 سے قید کے دوران ناقص اور آلودہ کھانا، غیر صحت مند ماحول اور طویل تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلاء کے مطابق ان کی قید سیاسی دباؤ کا حصہ ہے تاکہ عمران خان پر نفسیاتی دباؤ ڈالا جا سکے۔
بین الاقوامی وکیل جیرڈ گینسر نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو جیل میں ہونا ہی نہیں چاہیے، اور ان پر تشدد ناقابلِ برداشت ہے۔ وکیل جیکب بوگارٹ نے زور دیا کہ یہ صورتحال پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران اور بشریٰ بی بی کی قید پاکستان کے اندرونی سیاسی اختلافات کو مزید بڑھا سکتی ہے، اس لیے ان کی رہائی ناگزیر ہے۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے کہا کہ ان کے والد جمہوریت کے لیے کھڑے ہوئے اسی وجہ سے قید ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔