کوئٹہ: پولیس نے پیر کو صوبائی دارالحکومت میں 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا جو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ طور پر زبردستی مارکیٹیں بند کروا رہے تھے اور شاہراہیں بلاک کر رہے تھے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) محمد بلوچ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ مظاہرین کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی، مارکیٹوں کو زبردستی بند کرانے اور سڑکوں کی بندش پر گرفتار کیا گیا۔
یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب چھ اپوزیشن جماعتوں نے 2 ستمبر کو بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے جلسے پر خودکش حملے کے خلاف صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی۔ اس حملے میں 15 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کوئٹہ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد گرفتاریاں کیں۔ تصاویر میں مظاہرین کو پتھر پھینکتے، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے اور جلاؤ گھیراؤ کرتے دکھایا گیا۔ دوپہر کے وقت موٹروے پولیس نے اطلاع دی کہ کوئٹہ میں بیلی کسٹم کے قریب این-25 شاہراہ عوامی احتجاج کے باعث بند کر دی گئی ہے۔ یہ شاہراہ حب اور مستونگ کے سونا خان کے علاقے میں بھی بلاک رہی۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) اتحاد — جس میں پی ٹی آئی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) اور بی این پی-مینگل شامل ہیں — نے سوشل میڈیا پر دکانوں کی بندش اور مغربی بائی پاس کی مکمل بندش کی تصاویر شیئر کیں۔ اتحاد نے پولیس پر پی ٹی آئی کارکنوں پر تشدد اور شیلنگ کے الزامات لگائے اور کہا کہ کارکنان مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا تھا کہ ہڑتال کے دوران تمام ہائی ویز، انٹر سٹی روڈز اور کوئٹہ ایئرپورٹ و ریلوے اسٹیشن جانے والے راستے بند کیے جائیں گے۔ انہوں نے صوبے کے دیگر ہوائی اڈوں کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا اور تاجروں و ٹرانسپورٹرز سے ہڑتال میں شمولیت کی اپیل کی۔
کاروباری اور تعلیمی اداروں نے بھی احتجاج کی حمایت کی۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس، مختلف تجارتی انجمنوں اور پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے صوبے بھر میں کاروباری مراکز، اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی بندش کا اعلان کیا۔
گزشتہ رات بلوچستان حکومت نے خبردار کیا تھا کہ اگر احتجاجی مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لیا یا شاہراہیں بند کیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
2 ستمبر کو کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں بی این پی-مینگل کے جلسے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 15 افراد جاں بحق اور 38 زخمی ہوئے۔ یہ اجتماع پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار عطاء اللہ مینگل کی چوتھی برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔ حملے کے وقت سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، سابق نیشنل پارٹی سینیٹر میر کبیر محمد شاہی اور اے این پی رہنما اصغر اچکزئی جلسہ گاہ سے روانہ ہوچکے تھے، اس لیے محفوظ رہے۔
واقعے کے بعد اختر مینگل نے اسے ’’دردناک اور المناک سانحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ریاست پر اجتماع کو تحفظ دینے میں ناکامی کا الزام لگایا۔ انہی کے ہمراہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ہڑتال کی کال دی۔