بیجنگ : وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران کہا کہ گزشتہ برسوں میں پاک روس تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کا کریڈٹ صدر پیوٹن کی ذاتی دلچسپی اور عزم کو جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ استانہ میں پچھلے سال ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے اور متعدد معاہدے ہوئے جن میں زراعت، آہن و فولاد، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے شامل ہیں۔
وزیرِاعظم نے خطے کی معاشی ترقی کے لیے بیلاروس، روس، قازقستان، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والے تجارتی راہداری منصوبے کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو “تکمیلی اور معاون” سمجھتا ہے اور وہ روس کے بھارت سے تعلقات کا احترام کرتا ہے۔
صدر پیوٹن نے پاکستان کو ایشیا کا “روایتی شراکت دار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو ان تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حالیہ برس پاکستان کی جانب سے روسی تیل کی درآمد سے تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
صدر پیوٹن نے پاکستان میں حالیہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان اپنی موجودہ قیادت میں ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے پاکستان کے اقوام متحدہ میں فعال کردار کو بھی سراہا، خاص طور پر بطور غیر مستقل رکن سلامتی کونسل۔
صدر پیوٹن نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو نومبر میں ماسکو میں ہونے والے ایس سی او ہیڈز آف گورنمنٹ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسے وزیرِاعظم نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اعلیٰ سطح پر روس کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
مبصرین کے مطابق شہباز شریف اور پیوٹن کی بیجنگ ملاقات پاکستان کی چین اور روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں معاشی و سیاسی انضمام اور رابطوں کو فروغ دینے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔