پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع تاریخی گوردوارہ دربار صاحب سمیت کرتارپور کا وسیع علاقہ سیلابی پانی میں ڈوب گیا ہے۔ یہ گوردوارہ سکھ برادری کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے اور اسے سکھ مذہب کے بانی، گرو نانک نے 16ویں صدی میں قائم کیا تھا۔ یہ گوردوارہ کرتارپور راہداری کا اختتامی مقام بھی ہے، جو بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے بغیر ویزے کے داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور 2019 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
کرتارپور اور اس کے اطراف کا علاقہ ماضی میں بھی بارشوں اور دریاوں کے اوور فلو کی وجہ سے سیلاب کا شکار رہا ہے، جس سے مقامی آبادی اور یاتریوں کی زندگی متاثر ہوتی رہی ہے۔
فی الحال تقریباً 100 افراد، جن میں 18 مقامی یاتری بھی شامل ہیں، گوردوارہ کے احاطے میں محصور ہیں کیونکہ پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔ سکھ برادری نے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ کرتارپور راہداری اور گوردوارہ دربار صاحب کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
محکمہ سیلابی ریلیف اور مقامی انتظامیہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے، خاص طور پر دریا کے کناروں پر رہنے والے افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔