فیصل آباد: انسداد دہشتگردی عدالت فیصل آباد نے 9 مئی 2023 کے فسادات کے اہم مقدمے، جس میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے گھر پر حملہ شامل تھا، کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے 109 ملزمان میں سے 75 کو مجرم قرار دے کر قید کی سزا سنائی جبکہ 34 افراد کو بری کر دیا۔
فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج جاوید اقبال شیخ نے سنایا۔ یہ مقدمہ تھانہ سمن آباد فیصل آباد میں درج ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے وکیل ملک خالد شفیق نے عدالتی فیصلے کی تصدیق کی۔
فیصلے کے مطابق 59 ملزمان کو 10 سال اور 16 کو 3 سال قید کی سزا دی گئی۔ جن اراکین اسمبلی اور رہنماؤں کو سزا سنائی گئی ہے وہ آئین کے آرٹیکل 63(1)(g) کے تحت نااہلی کا سامنا کریں گے۔
10 سال قید کی سزا پانے والے (59 افراد)
عمر ایوب
شبلی فراز
زرتاج گل
شیخ رشید شفیق
رائے مرتضیٰ اقبال
رائے حسن نواز
فرح آغا
کنول شوذب
احمد چٹھہ
انصر اقبال
بلال اعجاز
اشرف خان سونا
مہر جاوید
شکیل نیازی
حامد رضا (سربراہ سنی اتحاد کونسل)
دیگر تمام رہنما اور کارکنان جن کے نام عدالت کے تحریری حکم نامے میں شامل ہیں (کل تعداد 59)
3 سال قید کی سزا پانے والے (16 افراد)
شیخ شاہد جاوید
جبران
ابو سفیان
محسن
محمد ارسلان
افضل
طیّب
اسرار شاہد
عبد الرحمان
عرفان خالد
ارسلان اقبال
شعیب بٹ
نجم الساقب
زبیر قمر
اورنگ زیب
محمد رفیق
بری ہونے والے افراد (34)
مخدوم زین حسین قریشی
فواد چوہدری
سلطان اشرف عرف پاشا
شکیل احمد جٹ
سید حماد علی شاہ
محمد یاسین جٹ
محمد امتیاز
ذوالفقار بھٹو
محمد بلال یوسف
منصب علی زین
ملک ساجد مصطفی
ملک چاند
محمد احمد صابر
محمد عمران
نوید خان جدون
جارج فرحان
حمزہ حکیم
محمد حمزہ ولد انعام الٰہی
محمد سلیمان
فرقان زاہد
ارسلان جواد
محمد اصغر
وسیم یونس عرف چھٹا
شاہد پرویز
شکیل ولد شریف
محمد کاشف ولد اشفاق
تیمور الرحمٰن
محمد شاہد ولد عبد الرشید
ماھلے خان
محمد نعیم اکرم
محمد یعقوب
مقبول احمد
ملک شرافت
وقاص حمید
یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے واقعات میں سے ایک ہے۔ فیصل آباد میں ہجوم نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے گھر پر دھاوا بولا تھا۔ ملک بھر میں ان فسادات کے دوران فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو ایک بڑا قانونی اور سیاسی دھچکا لگا ہے، جبکہ متعدد رہنماؤں کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔