کابل؛ چین نے افغانستان میں معدنی وسائل کے شعبے میں عملی سرمایہ کاری شروع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے طالبان حکومت کو اپنے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق، کابل کے دورے پر آئے چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بدھ کے روز افغان وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے سیاسی اعتماد اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، وانگ ای نے کہا کہ بیجنگ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے تجارت، زراعت اور سکیورٹی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ وانگ ای نے یہ بھی کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات دونوں ممالک کے باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ افغان وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ وانگ ای نے افغانستان میں رواں برس معدنی شعبے میں عملی سرگرمیاں شروع کرنے کا بھی ذکر کیا۔
چینی وزیرِ خارجہ نے افغان وزیرِاعظم ملا محمد حسن اخوند سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر اخوند نے کہا کہ چین نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کر رہا ہے اور کابل توقع کرتا ہے کہ بیجنگ بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی جائز پوزیشن کے حق میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ جواب میں وانگ ای نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو “مخلص اور پائیدار دوستی” قرار دیا اور کہا کہ چین افغان عوام کی ترقی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات بھی کابل میں منعقد ہو رہے ہیں۔ اگرچہ بیجنگ اور اسلام آباد نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا، لیکن دونوں ممالک نے اپنے سفیر کابل میں تعینات کر رکھے ہیں اور افغان نمائندوں کو اپنے دارالحکومتوں میں خوش آمدید کہا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی زمین لیتھیم، تانبے اور لوہے جیسے قیمتی معدنی ذخائر سے مالا مال ہے جو بیجنگ کی سپلائی چین کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔