ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان

واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو حالیہ شدید کشیدگی کے بعد ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

یہ تنازع 2 مارچ کو شدت اختیار کر گیا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل کی جانب سے بھرپور فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ یہ صورتحال ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 2,100 سے زائد افراد جاں بحق اور 12 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں میں دو شہری اور 13 فوجی ہلاک ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے “بہترین گفتگو” کی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے سے باضابطہ جنگ بندی شروع کریں گے، جس کا مقصد مستقل امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے نمائندے 34 برس بعد پہلی بار واشنگٹن میں مارکو روبیو کی موجودگی میں ملے۔ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کو مستقل امن کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ وہ جلد اسرائیلی وزیر اعظم اور لبنانی صدر کو وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے تاکہ 1983 کے بعد پہلی بار بامعنی مذاکرات ہو سکیں۔

اس سے قبل صدر عون نے ٹرمپ سے پہلی بار گفتگو میں جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ پاکستان نے بھی کہا کہ لبنان میں امن خطے کے وسیع تنازع کے خاتمے کے لیے نہایت اہم ہے۔

اگرچہ سفارتی پیش رفت جاری ہے، تاہم جنوبی لبنان خصوصاً بنت جبیل میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیل مذاکرات سے قبل اس علاقے میں برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مزید برآں، ایک اسرائیلی حملے میں دریائے لیتانی پر قائم آخری پل بھی تباہ ہو گیا، جس سے جنوبی لبنان کا ایک بڑا حصہ باقی ملک سے منقطع ہو گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں