نیوز ڈیسک (ایم این این): وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک محدود سطح کی ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال اور امن و استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاکستان کے لیے سعودی عرب کی طویل مدتی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر بھی موجود تھے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب کو ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اہداف کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل وزیر اعظم کا استقبال کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے کیا۔
اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق اور جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی بھی موجود تھے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین پر تین بنیادی اصولوں پر زور دے رہا ہے جن میں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری اور بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی بحالی شامل ہیں۔
قبل ازیں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کر کے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق دونوں ممالک نے گزشتہ سال طے پانے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو کی۔
نیوز ڈیسک (ایم این این): وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کو مختصر سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
سرکاری ٹیلی وژن پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے مطابق وزیر اعظم کا طیارہ جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر اترا جہاں مکہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی اور دیگر سفارتی حکام بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کا یہ دورہ چند گھنٹوں پر مشتمل ہوگا جس کے دوران وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق یہ دورہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور ملاقات کے دوران دونوں رہنما خطے میں جاری کشیدگی، سکیورٹی صورتحال اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب کو ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اہداف کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس نے کہا کہ یہ دورہ عالمی سفارتی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے اور پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ خطے میں فوری جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین پر تین نکات پر زور دے رہا ہے جن میں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری اور بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی بحالی شامل ہیں۔
دریں اثنا وزیر اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان ہر وقت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
اس سے قبل پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف عاصم منیر نے بھی حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی تھی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔