ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان، امریکی اڈے بند کرنے اور آبنائے ہرمز بند رکھنے کا عندیہ

نیوز ڈیسک (ایم این این): ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے اہم بیان میں علاقائی صورتحال، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے ایران کی پالیسی واضح کر دی ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیں، بصورت دیگر ان پر حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں خطے کے ممالک کے خلاف نہیں بلکہ صرف ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور ان ممالک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہم عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو ایران کے دشمنوں پر دباؤ ڈالنے کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر بند رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے تمام شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا، جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جبکہ حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کا بھی ذکر کیا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے ملک کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ انہوں نے جنگ سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کے لیے مالی اور دیگر امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد کو مضبوط کریں اور اندرونی اختلافات کو ختم کریں کیونکہ ملک اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

اگرچہ ایران نے حالیہ دنوں میں خطے کے مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف امریکی فوجی اثاثے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زخمی افراد کو مفت طبی علاج فراہم کیا جائے گا جبکہ جن لوگوں کو مالی نقصان پہنچا ہے انہیں معاوضہ دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔

علی لاریجانی نے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے بجلی کے نظام پر حملہ کیا تو پورا خطہ تاریکی میں ڈوب سکتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایک گھنٹے کے اندر ایران کی بجلی کی صلاحیت کو ختم کر سکتا ہے، لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا کیا گیا تو آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورا خطہ تاریکی میں ڈوب جائے گا اور اس صورتحال میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے اب تک ایران کے بجلی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم اگر ایران نے عالمی تیل کی فراہمی کو روکنے کی کوشش کی تو ان تنصیبات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں