نیویارک (ایم این این): اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر مستقل طور پر واپس بلا لیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ تنازع اسپین کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مخالفت کے باعث شدت اختیار کر گیا ہے۔
منگل کے روز اسپین کے سرکاری گزٹ میں جاری اعلامیے میں تصدیق کی گئی کہ اسرائیل میں تعینات اسپین کے سفیر کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اسپین کی وزارت خارجہ کے مطابق تل ابیب میں موجود سفارت خانے کی قیادت اب آئندہ عرصے تک ناظم الامور کریں گے۔
اس سے قبل اسپین نے گزشتہ سال ستمبر میں سفارتی تنازع کے بعد اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب اسپین نے ایسے طیاروں اور بحری جہازوں پر پابندی عائد کر دی تھی جو اسرائیل کو اسلحہ لے جا رہے تھے اور انہیں اسپین کی فضائی حدود یا بندرگاہوں کے استعمال سے روک دیا گیا تھا۔
یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا تھا اور اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے اسپین پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس کے اقدامات یہود مخالف ہیں۔
اکتوبر دو ہزار تئیس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فوجی حملے شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔
اس دوران اسرائیل نے بھی گزشتہ سال مئی میں احتجاجاً اسپین سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ یہ فیصلہ اسپین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے مشترکہ حملوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اسپین نے ان حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
مارچ کے اوائل میں اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے اسپین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کر کے “ظالم حکمرانوں کا ساتھ دے رہا ہے”۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو اسپین اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات آئندہ بھی محدود رہنے کا امکان ہے۔