پیوٹن سے فون کال کے بعد ٹرمپ کا دعویٰ: امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے

نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا، “میرے خیال میں جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس نہ بحریہ رہی ہے، نہ مواصلاتی نظام اور نہ ہی فضائیہ باقی رہی ہے۔”

ٹرمپ نے اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے دعوے کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ کے دوران ایران کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ جنگ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اس جنگ کے لیے مقرر کردہ ابتدائی چار سے پانچ ہفتوں کے ٹائم فریم سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

ادھر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں ایران کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور دسمبر کے بعد ان کے درمیان ہونے والی پہلی بات چیت تھی۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روسی صدر کے سفارتی مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ اس گفتگو میں ایران سے متعلق جنگ اور یوکرین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔

اوشاکوف کے مطابق صدر پیوٹن نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے جلد سیاسی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

روس ایران کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے اور ماسکو اس بحران کے حل کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں اور مذاکرات پر زور دیتا رہا ہے۔

روسی حکام کے مطابق صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کے جلد خاتمے کے لیے اپنی تجاویز سے بھی آگاہ کیا۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور موجود ہے، اگرچہ بعض بیانات کے مطابق جنگی مرحلہ اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں