گلگت بلتستان – گلگت بلتستان کے تاجروں نے ہفتہ کے روز سوست ڈرائی پورٹ پر جاری دو ماہ سے زائد طویل دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد پاک-چین سرحد کے راستے تجارت اور سیاحت کی بحالی ممکن ہو گئی۔
یہ دھرنا جولائی میں حکومتی ٹیکس پالیسیوں اور کسٹمز کلیئرنس معطل ہونے کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔
تاجر رہنما جاوید حسین نے بتایا کہ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ سپریم کونسل نے کیا، جو وفاقی اور جی بی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تاجروں کی نمائندگی کر رہی تھی۔
چند روز قبل وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے سوست ڈرائی پورٹ سے آنے والی درآمدات پر ٹیکس چھوٹ دینے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم یہ رعایت صرف مقامی استعمال کی اشیا پر ہوگی اور اس کی کل حد 4 ارب روپے سالانہ مقرر کی گئی ہے۔
ابتدا میں تاجروں نے مذاکراتی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم بعد ازاں سپریم کونسل کی تجویز پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
جاوید حسین نے کہا کہ حکومتی فیصلے تاجروں کے تمام مطالبات کے مطابق نہیں ہیں مگر کونسل کی رائے کا احترام کرتے ہوئے دھرنا ختم کیا گیا ہے۔
ایک اور تاجر رہنما ریحان شاہ کے مطابق جمعہ کی شب تاجروں اور سپریم کونسل کے اجلاس میں طے پایا کہ گزشتہ دو برسوں سے بند کنٹینرز آئندہ دو دن میں کلیئر کر دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ایک ایس آر او ایک ماہ کے اندر جاری کیا جائے گا، جو تاجروں کے مطالبات پر عملی عملدرآمد ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایس آر او جاری ہونے یا اس میں تاخیر کی صورت میں تاجروں اور کونسل کا دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ جی بی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے بھی سفارش کی تھی کہ گلگت بلتستان کے لیے خصوصی ایس آر او کے ذریعے ٹیکس چھوٹ فراہم کی جائے۔