وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا بھرپور قوت کے ساتھ مقابلہ جاری رکھے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں اور آپریشنز کے نتیجے میں 19 فوجی شہید ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 10 سے 13 ستمبر کے دوران سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں 13 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ اس دوران 12 اہلکار شہید ہوئے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام دہشت گرد ’’فتنہ الخوارج‘‘ نامی بھارتی پراکسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ بعد ازاں لال قلعہ میدان، لوئر دیر میں ہونے والے ایک اور آپریشن میں 10 مزید دہشت گرد مارے گئے تاہم سات جوان شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِاعظم اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ دونوں رہنماؤں نے شہداء کی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد اور سہولت کار افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے بھارت کی پشت پناہی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری افغان حکومت کو دوٹوک پیغام دیا گیا ہے کہ وہ یا تو دہشت گردوں کی حمایت ترک کرے یا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو۔ وزیرِاعظم نے غیر قانونی افغان باشندوں کی جلد وطن واپسی پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان کی موجودگی دہشت گردی کے واقعات میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے حق میں بیانیہ بنانے یا ان کی حمایت کرنے والے عناصر دراصل بھارت کے ایجنٹ ہیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ ماہ بلوچستان کی سرحد پر افغانستان سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے پچاس دہشت گرد بھی ہلاک کیے گئے تھے جبکہ حالیہ ہفتوں میں صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متعدد کارروائیوں میں درجنوں دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں ملوث تھے۔
فوج کے مطابق ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں افغان شہریوں کی براہِ راست شمولیت کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں، اس لیے پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام انتظامی اور قانونی اقدامات فوری طور پر نافذ کرے گی تاکہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مزید مؤثر بن سکیں۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم میں متحد ہے۔