چینی حکومت کی دعوت پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری 12 سے 21 ستمبر 2025 تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔
اس دوران صدر زرداری چنگدو، شنگھائی اور سنکیانگ ویغور خود مختار علاقے کا دورہ کریں گے جہاں وہ صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک–چین تعلقات پر جامع بات چیت ہوگی، خاص طور پر تجارت اور معیشت کے فروغ، پاک–چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور مستقبل کی علاقائی روابط کی منصوبہ بندی پر غور کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے دیرینہ سلسلے کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی “ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری” کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر دونوں ملک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات پر حمایت کے اعادے کے ساتھ سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا نمایاں منصوبہ قرار دیتے ہوئے معاشی تعاون کو آگے بڑھانے کا عزم کریں گے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ایک گہری تاریخ رکھتے ہیں، جن میں سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون شامل ہے۔ خطے کے تنازعات میں چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت اور عالمی فورمز پر پاکستان کی جانب سے چین کے بنیادی مفادات کا دفاع اس تعلق کو “ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہرا” قرار دینے کا باعث بنا۔ صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ اس بااعتماد اور دیرپا شراکت داری کو مزید اجاگر کرتا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔