پنجاب ہفتے کے روز بھی شدید سیلابی صورتحال کی لپیٹ میں رہا جہاں دریائے ستلج، چناب اور راوی کے بڑھتے ہوئے پانی نے وسیع علاقے زیر آب کر دیے، زندگی اور روزگار بری طرح متاثر ہوئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور ضلعی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر نقصان، انخلا اور آئندہ دنوں میں مزید خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
پانی کی صورتحال
ملتان کے ہیڈ تریموں پر بڑے سیلابی ریلے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جو دو سے تین روز میں پہنچ سکتا ہے۔ ہیڈ سلیمانکی پر اونچے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دریائے راوی کے پانی نے ہیڈ بلوکی اور ہیڈ سدھنائی کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔
شجاع آباد میں پانچ لاکھ کیوسک سے زائد پانی داخل ہوا، زرعی اراضی ڈوب گئی، جبکہ زمندارہ بند میں شگاف کے باعث دیہات زیر آب آگئے۔ مظفرگڑھ میں چناب کا پانی تین دیہات میں داخل ہوا جس سے دو ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ قصور کے گنڈا سنگھ والا میں ستلج میں تین لاکھ گیارہ ہزار کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 4100 سے زائد دیہات زیر آب آ چکے ہیں، 4 کروڑ 22 لاکھ افراد متاثر اور کم از کم 50 افراد ڈوب کر جان سے گئے ہیں۔ پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق دو کروڑ سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں 423 ریلیف کیمپ، 512 میڈیکل کیمپ اور 432 ویٹرنری کیمپ قائم کیے گئے ہیں جبکہ 15 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بچایا گیا ہے۔ جاوید نے خبردار کیا کہ بڑے ذخائر اپنی گنجائش کے قریب ہیں۔ تربیلا ڈیم مکمل طور پر بھر چکا ہے جبکہ منگلا 87 فیصد تک بھر گیا ہے۔ بھارت کے بھاکڑا، پونگ اور تھیئن ڈیم بھی نوے فیصد سے زائد بھر چکے ہیں۔
زیادہ متاثرہ اضلاع
شکر گڑھ میں 474 دیہات زیر آب آگئے، چار ہزار سے زائد افراد اور سینکڑوں مویشی منتقل کر لیے گئے۔ جلالپور پیروالا میں چناب اور ستلج کا پانی شہر کے قریب پہنچنے سے خطرہ بڑھ گیا ہے۔ گجرات میں بارش رکنے کے باوجود شہری سیلاب جاری ہے، عدالتیں، دفاتر اور تجارتی مراکز بند پڑے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم میں شہری سیلاب کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔
مستقبل کی پیش گوئیاں
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق پنجند ہیڈ ورکس پر 3 لاکھ 84 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے درمیان اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جبکہ ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر “انتہائی اونچے درجے” کا ریلا گزر رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے اگلے 24 گھنٹوں میں چناب میں پنجند کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں فلیش فلڈز کے امکانات ہیں۔ لاہور، گوجرانوالہ، ساہیوال، ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور میں بھی موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
سندھ کی صورتحال
گھوٹکی میں زرعی وزیر سردار محمد بخش خان مہر نے حفاظتی بندوں کا معائنہ کیا جہاں 9 ستمبر تک سات لاکھ کیوسک تک کا ریلا متوقع ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اب تک 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد افراد کو دریائی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے سکھر، میرپور خاص اور شہید بینظیر آباد میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران شہری سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ملتان اور جنوبی پنجاب
ملتان میں ڈپٹی کمشنر کے مطابق 4 لاکھ 14 ہزار کیوسک کا ریلا 48 گھنٹوں میں پہنچ سکتا ہے۔ شجاع آباد اور جلالپور پیروالا میں حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ڈیم اور بیراج
کوٹری بیراج پر 2 لاکھ 43 ہزار کیوسک اپ اسٹریم اور 2 لاکھ 22 ہزار کیوسک ڈاؤن اسٹریم ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بہاولپور کے 80 سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں۔
گجرات میں شہری سیلاب
گجرات شہر میں برساتی نالوں کے پانی نے سڑکوں، دفاتر اور رہائشی علاقوں کو ڈبو دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
آئندہ کے امکانات
ریلیف کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ نقصانات کا ازالہ حکومت کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔ پی ڈی ایم اے کے ڈی جی نے کہا کہ ستلج میں پانی کم ہونے لگا ہے لیکن بھارتی ڈیموں کے اخراج اور دریاؤں میں بلند بہاؤ کے باعث خطرہ اب بھی برقرار ہے۔
لاکھوں متاثرین کے لیے آئندہ دن نہایت نازک ہیں کیونکہ انتظامیہ پشتوں کو مضبوط کرنے اور امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے میں مصروف ہے تاکہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے سیلاب سے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔