صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے

صدر آصف علی زرداری نے اتوار کے روز انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کے تحت ملک کے انسدادِ دہشت گردی کے قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد ریاست کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے، ساتھ ہی ساتھ ایسے حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں جن سے اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

یہ بل رواں ماہ کے آغاز میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کو بھیجا گیا تھا، جس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا۔ بل کے ذریعے ایک بار پھر سیکشن 11EEEE کو بحال کیا گیا ہے جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج مخصوص حالات میں مشتبہ افراد کو تین ماہ تک حراست میں رکھ سکیں گے۔ تاہم اس بار عدالتی نگرانی اور آئینی ضمانتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی شخص کو غیرقانونی یا بلاجواز حراست میں نہ رکھا جا سکے۔

ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق یہ قانون سکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر بناتا ہے، لیکن ساتھ ہی عدالتی نگرانی کا نظام بھی فراہم کرتا ہے تاکہ ماضی کی طرح من مانے اقدامات نہ کیے جائیں۔ بل کے تحت ہر حراستی حکم میں وجوہات درج کرنا لازمی ہوگا اور یہ سب کچھ آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت ہوگا جو گرفتاری اور حراست کے خلاف بنیادی ضمانتیں فراہم کرتا ہے۔

قانون کے مطابق اگر مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کسی شخص کو حراست میں لیں گی تو اس کی تحقیقات ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کرے گی جس میں سینئر پولیس افسران، خفیہ اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کسی بھی پولیس افسر کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے کم درجے پر اس عمل کی قیادت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ترامیم کے تحت ان افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جو دہشت گرد منصوبہ بندی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان یا بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث پائے جائیں یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جائیں۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قبل از وقت حراست سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو عملی شکل دینے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے اور اس طرح جانی و مالی نقصان کم ہوگا۔

پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بیانِ وجوہات کے مطابق ملک میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں نے ایک نئے اور مضبوط قانونی ردعمل کی ضرورت پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ ترامیم کو دوبارہ نافذ کیا گیا ہے تاکہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو زیادہ اختیارات دیے جا سکیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے اختیارات کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، بلاجواز حراست اور انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی اے ٹی اے کے تحت ماضی کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قانون میں عدالتی نگرانی اور قانونی چارہ جوئی کے حق کو شامل کیا گیا ہے، لیکن اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ ضمانتیں عملی طور پر کمزور ثابت ہوسکتی ہیں۔

حکومتی حلقے اس کے برعکس سمجھتے ہیں کہ جے آئی ٹیز اور آئینی نگرانی کا طریقہ کار اس بار کی ترامیم کو ماضی کے اقدامات سے مختلف بناتا ہے اور یہ قانون دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط مگر جوابدہ قانونی آلہ فراہم کرے گا۔

اس بل کی منظوری سے ایک بار پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں سب سے بڑا چیلنج قومی سلامتی کے تقاضوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے پیش نظر حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون ملک کو پرتشدد کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ حقوق کے علمبردار اب بھی اس کے غلط استعمال کے خدشے میں مبتلا ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں