پشاور: پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے جمعہ کے روز سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا اور دیگر ارکان اسمبلی کی جانب سے نااہلی کے خلاف دائر درخواستیں واپس کرتے ہوئے انہیں متعلقہ ہائی کورٹس سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
اس سے قبل عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نااہلی کے نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل سید سکندر شاہ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل، جو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان ہیں، کو الیکشن کمیشن نے 5 اگست کو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے سزا سنائے جانے کے بعد نااہل قرار دیا۔ وکیل نے کہا کہ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی جبکہ الیکشن کمیشن نے اپیل کا انتظار کیے بغیر ایک ہی رات میں انہیں ڈی سیٹ کر دیا۔ انہوں نے مزید مؤقف اپنایا کہ محض سزا یافتہ ہونا نااہلی کے لیے کافی نہیں ہے، اس حوالے سے عدالتوں کے سابقہ فیصلے موجود ہیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ اور الیکشن کمیشن کے نمائندوں نے اعتراض اٹھایا کہ چونکہ تمام حلقے پنجاب کے ہیں، اس لیے درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) یا اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) سے رجوع کریں۔
جسٹس وقار احمد نے ریمارکس دیے کہ جب لاکھوں عوام کسی نمائندے کو منتخب کرتے ہیں تو ووٹرز کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سزا نااہلی کا سبب نہیں بنتی۔
سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں واپس کر دیں اور درخواست گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔