پگھلتے گلیشیر۔۔۔۔۔سیلاب ہر سال آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(خصوصی رپورٹ )

(خصوصی رپورٹ ) پاکستان دنیا میں قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشیر رکھنے والا ملک ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلے تقریباً سات ہزار گلیشیرز سے مزین ہیں۔ مگر اب یہی قدرتی خزانے موسمیاتی تبدیلی کے باعث خطرناک سیلابوں کی شکل میں ملک کے لئے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ ہنزہ کے علاقے میں شیشپر گلیشیر کے پگھلنے سے بننے والی جھیل نے بارہا مقامی آبادی کو خطرے سے دوچار کیا۔ حالیہ برسوں میں اس گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے نتیجے میں حسن آباد پل بہہ گیا اور کئی مکانات و فصلیں تباہ ہوئیں۔ مقامی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی وارننگز سے بڑی انسانی تباہی تو ٹل گئی، مگر نقصانات شدید تھے۔ ماہرین کے مطابق سیاچن گلیشیر سالانہ 110 میٹر کی رفتار سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اگر یہ عمل جاری رہا تو 2035 تک اس کا حجم 2011 کے مقابلے میں صرف ایک پنجم رہ جائے گا۔ اس تبدیلی سے نہ صرف خطے کا ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے بلکہ دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیرز میں شمار ہونے والے بالتورو اور بیافو گلیشیرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ان کا پگھلاؤ مسلسل دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ کو بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی نچلے علاقوں میں آنے والے سیلابوں کو مزید شدید بنا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں اب تک تین ہزار سے زائد گلیشیل جھیلیں وجود میں آچکی ہیں، جن میں سے درجنوں انتہائی خطرناک قرار دی جا چکی ہیں۔ ان کے پھٹنے سے اچانک آنے والے سیلاب لاکھوں افراد کو براہِ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دو سے سات ملین افراد اس خطرے کی زد میں ہیں۔ جولائی اور اگست 2025 میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں مون سون بارشوں اور گلیشیل پگھلاؤ نے مل کر قیامت ڈھا دی۔ دریاؤں کے بہاؤ میں طوفانی اضافہ ہوا، پل اور سڑکیں بہہ گئیں، مکانات تباہ ہوئے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ دنیور گلگت میں ایک ندی کے کنارے بند کی مرمت کرتے ہوئے سات رضا کار مٹی کے تودے تلے آ کر جاں بحق ہو گئے۔ موسمیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی حدت کے موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آئندہ برسوں میں پاکستان میں گلیشیل پگھلاؤ کی رفتار 65 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیلابوں کی شدت اور تعداد دونوں میں اضافہ ہو گا، جس کے اثرات صرف شمالی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پنجاب اور سندھ کے زرعی میدان بھی زد میں آئیں گے۔ پاکستان کے پگھلتے گلیشیر ایک “ٹک ٹک کرتی ٹائم بم” کی مانند ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو گا بلکہ ملکی معیشت، زراعت اور توانائی کے نظام پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت اور عوام دونوں کے لئے یہ وقت ہے کہ پانی کے انتظام، قبل از وقت وارننگ سسٹم اور محفوظ آبادکاری پر فوری توجہ دی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں