جنگ اور حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ ادارے سے تعاون بحال کیا

واشنگٹن: اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے “انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی” (IAEA) کے معائنہ کار ایران واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور امریکی حملوں کے بعد ادارے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا۔

ایران نے اپنے جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت نہ کرنے پر آئی اے ای اے سے تعاون روک دیا تھا۔ تاہم اب ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے امریکی چینل فاکس نیوز کو بتایا کہ “پہلی ٹیم ایران واپس جا چکی ہے اور ہم دوبارہ کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔”

رافائل گروسی نے کہا کہ ایران میں کئی جوہری تنصیبات ہیں، کچھ پر حملے ہوئے جبکہ کچھ محفوظ رہیں۔ “ہم اس بات پر بات کر رہے ہیں کہ ہمارے کام کی بحالی کے لیے کس نوعیت کے عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔”

یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے منگل کے روز جنیوا میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کیے۔ تہران نے یورپی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پابندیوں کے “اسنیپ بیک میکنزم” کو فعال نہ کریں اور سفارتکاری کو وقت دیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ “یورپی ممالک کے لیے یہ صحیح فیصلہ کرنے کا وقت ہے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔”

یورپی ممالک، جو 2015 کے جوہری معاہدے کا حصہ ہیں، نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی کو محدود نہ کیا اور آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون بحال نہ کیا تو اگست کے آخر تک اقوام متحدہ کی وسیع پابندیاں دوبارہ لاگو کی جا سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کو اس وقت شدید نقصان پہنچا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں معاہدے سے یکطرفہ انخلا کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔ جون میں اسرائیل کے اچانک حملوں سے ایران اور امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل ہو گئے تھے، جس سے ایران کے آئی اے ای اے کے ساتھ تعلقات بھی مزید کشیدہ ہو گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں